جوٹ مل علاقوں میں ووٹروں کی خاموشی سے سیاسی جماعتیں الجھن میں

جوٹ مل علاقوں میں ووٹروں کی خاموشی سے سیاسی جماعتیں الجھن میں

عام طور پر جب بھی انتخابات آتے ہیں، اس صنعتی علاقے کی ۱۱ جوٹ ملوں (چٹ کل) کی ’قلی لائن‘ اور گلی کوچے جس طرح پرتشدد ہو جاتے تھے— مار پیٹ، توڑ پھوڑ اور جلوسوں پر حملوں کے واقعات معمول تھے— اس بار اس کا نام و نشان تک نہیں ہے۔ماضی کے برعکس، اس بار انتخابی مہم کے دوران تشدد کا نہ ہونا سیاسی مبصرین کے لیے حیران کن ہے۔ یہ خاموشی کسی بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ بھی ہو سکتی ہے اور ووٹرز کی پختگی کی علامت بھی۔جلسوں اور ریلیوں میں لوگوں کا ہجوم تو نظر آ رہا ہے، لیکن ان کی خاموشی نے سیاسی جماعتوں کو الجھن میں ڈال دیا ہے۔ یہ سمجھنا مشکل ہو رہا ہے کہ عوام کا جھکاو¿ کس طرف ہے اور وہ بیلٹ باکس کے ذریعے کسے ’سبق‘ سکھانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔صنعتی علاقے کے ۱۱ جوٹ ملوں کے مزدوروں کے مسائل، جیسے اجرت، پی ایف (PF) اور کام کے حالات، ہمیشہ سے انتخابی موضوع رہے ہیں۔ اس بار پرامن مہم کا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ مزدور طبقہ شور شرابے کے بجائے خاموشی سے اپنے ووٹ کی طاقت استعمال کرنے کا فیصلہ کر چکا ہے۔
علاقے میں خوف و ہراس یا تصادم کے ماحول کی عدم موجودگی ایک مثبت تبدیلی ہے۔ تاہم، سیاسی جماعتیں اس ’پرسکون‘ فضا کو اپنے حق میں یا اپنے خلاف ہونے والی لہر کے طور پر دیکھ رہی ہیں، جس کا حتمی فیصلہ نتائج والے دن ہی ہوگا۔

Back to top button
Translate »