بنگال کی خدمت کرنا میری تقدیر میں لکھا ہے، یہ میری ذمہ داری بھی ہے، جسے میں ہر حال میں پورا کروں گا!‘: مودی 

بنگال کی خدمت کرنا میری تقدیر میں لکھا ہے، یہ میری ذمہ داری بھی ہے، جسے میں ہر حال میں پورا کروں گا!‘: مودی 

وزیر اعظم مودی نے کہا کہ آج کے ’وِکست بھارت‘ (ترقی یافتہ ہندوستان) کے لیے تین ستون انتہائی ضروری ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ بھارت کی تقدیر کا عروج ’پوروودے‘ (مشرقی بھارت کے عروج) کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ یہ دونوں ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں۔ انہوں نے یاد دلایا کہ وہ 2013 سے، یعنی وزیر اعظم بننے سے پہلے سے کہہ رہے ہیں کہ جب مشرقی بھارت ترقی کرے گا، تبھی ملک آگے بڑھے گا۔ انہوں نے کہا کہ ’انگ‘ (بہار) اور ’کلنگ‘ (اوڈیشہ) میں کمل کھل چکا ہے، اب بنگال کی باری ہے۔مودی جی نے کہا، ”بنگال کی خدمت کرنا، اسے محفوظ بنانا اور بڑے چیلنجوں سے اس کی حفاظت کرنا میری تقدیر میں لکھا ہے۔ یہ میری ذمہ داری بھی ہے اور میں اس ذمہ داری سے پیچھے نہیں ہٹوں گا۔ بنگال کا یہ الیکشن پورے مشرقی بھارت کی تقدیر بدلنے کا الیکشن ہے۔“ انہوں نے ماضی کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ جب بھارت خوشحال تھا، تب اس کے تین مضبوط ستون تھے— انگ، بنگ اور کلنگ (بہار، بنگال اور اوڈیشہ)۔ جب یہ تینوں ستون کمزور ہوئے، تو پورے ہندوستان کو دھچکا لگا۔
ریلی کے ایک واقعے کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایک چھوٹی بہن ریلنگ توڑ کر آگے آنے کی کوشش کر رہی تھی اور سیکیورٹی گارڈز سے بحث کر رہی تھی۔ وہ صبح سے بھوکی پیاسی آئی تھی اور بچوں سے کہہ رہی تھی کہ وہ مجھ سے ملے بغیر نہیں جائے گی۔ وزیر اعظم نے اس بہن سے نہ مل پانے پر معذرت چاہی اور کہا کہ ان کا یقین اور آشیرواد ہمیشہ ان کے ساتھ رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ بنگال کے روڈ شوز اور جلسوں میں انہیں جو اپنائیت ملی، وہ ان کے لیے زندگی کا سرمایہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ رات کو دیر سے جا کر لوگوں کے خطوط پڑھتے ہیں اور بچوں کی بنائی ہوئی تصویریں دیکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا، ”بنگال کی جنتا کا یہ بے پناہ پیار میری خوش قسمتی ہے۔ میں جب لوگوں کی آنکھوں میں محبت دیکھتا ہوں یا انہیں روتے ہوئے دیکھتا ہوں، تو اپنے جذبات پر قابو نہیں رکھ پاتا۔“
 مودی جی نے کہا کہ وہ ماں کالی کے بھکتوں کے درمیان گئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ جس طرح رام للا کی پران پرتیشتھا سے پہلے انہوں نے 11 دن تک مختلف پوجا اور آداب بجا لائے تھے، اس الیکشن کے دوران بھی ویسا ہی روحانی احساس ہو رہا ہے۔ انہوں نے بنگال کو اپنے روحانی شعور کا مرکز قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ سب بنگال کے لیے ان کی محبت کا نتیجہ ہے۔
Back to top button
Translate »