ریاستی حکومت نے طلبہ کے بیگ کا وزن کم کر دیا ، ہوم ورک کا بوجھ بھی کم ہوا
ریاستی حکومت نے طلبہ کے بیگ کا وزن کم کر دیا ، ہوم ورک کا بوجھ بھی کم ہوا
اسکول کا بیگ بہت بھاری ہے۔ کیا بچے اب اسے اٹھا سکتے ہیں؟ اب طلبہ کو اسکول کے بھاری بھرکم بیگ کا وزن سنبھالنے کے لیے پریشان نہیں ہونا پڑے گا۔ مرکزی وزارتِ تعلیم نے پری پرائمری سے لے کر بارہویں جماعت تک کے طلبہ کے بیگ کا وزن طے کر دیا ہے۔ اب مغربی بنگال کے اسکولوں میں بھی ‘قومی تعلیمی پالیسی 2020’ (NEP 2020) کے تحت وضع کردہ ‘قومی بیگ پالیسی’ کو نافذ کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔مغربی بنگال سمگرا شکشا مشن نے اسکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کی اس ہدایت کے حوالے سے ایک نوٹیفکیشن جاری کیا ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ بیگ کا وزن طالب علم کے اپنے وزن کے 10 فیصد کے اندر ہونا چاہیے۔ اس کے ساتھ ہی پڑھائی کا دباو کم کرنے کے لیے وزارتِ تعلیم کی ہدایت میں یہ بھی طے کر دیا گیا ہے کہ کس کلاس کے طالب علم کو کتنا ہوم ورک دیا جا سکتا ہے۔ اسکول میں کتنی کاپیاں لانی ہیں، یہ بھی طے کر دیا گیا ہے۔
ہدایت کے مطابق، پہلی اور دوسری جماعت کے طلبہ اسکول میں کلاس ورک کے لیے صرف ایک نوٹ بک لے کر جائیں گے۔ تیسری سے پانچویں جماعت کے طلبہ کے پاس ایک کلاس ورک کی نوٹ بک ہوگی اور ایک ہوم ورک کی کاپی ہوگی۔ چھٹی جماعت سے طلبہ موٹی اور پتلی کاپیاں استعمال کریں گے۔ اسکول انتظامیہ پہلی اور دوسری جماعت کے بچوں کو ہوم ورک نہیں دے سکے گی۔ تیسری سے پانچویں جماعت کے طلبہ ہر ہفتے زیادہ سے زیادہ دو گھنٹے ہوم ورک کریں گے۔ چھٹی سے آٹھویں جماعت کے طلبہ روزانہ ایک گھنٹہ ہوم ورک کریں گے۔ نویں سے بارہویں جماعت کے طلبہ ہوم ورک کے لیے روزانہ 2 گھنٹے کا وقت دیں گے۔ اس کے علاوہ، خصوصی ضرورتوں کے حامل (دیویانگ) طلبہ کے لیے اسکول میں ہی لاکر کی سہولت فراہم کرنے کی بات کہی گئی ہے۔

