جعلی دستاویزات معاملے میں ای ڈی نے بنگال کی متعدد جگہوں پر چھاپے مارے
جعلی دستاویزات معاملے میں ای ڈی نے بنگال کی متعدد جگہوں پر چھاپے مارے

روہنگیا اور بنگلہ دیشی دراندازی کا سنڈیکیٹ! کروڑوں روپے کا لین دین! اس کے پیچھے موجود ماسٹر مائنڈز کی تلاش میں انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) میدان میں اتر گئی ہے۔ بنگال سمیت ملک کے 13 مقامات پر مرکزی تفتیشی ایجنسی نے یکجا چھاپے مارے۔ کلکتہ، دونوں ۲۴ پرگنہ اور مرشد آباد میں تلاشی جاری ہے۔ صرف یہی نہیں، اتر پردیش، دہلی اور ہریانہ کے مختلف مقامات پر بھی ای ڈی کے افسران تلاشی کر رہے ہیں۔ تفتیشی ایجنسی نہ صرف کروڑوں روپے کے لین دین کی بلکہ جعلسازی دستاویزات بنانے والے نیٹ ورک کا سراغ لگانے کے لیے بھی پرعزم ہے۔
غیر قانونی طور پر ہندوستان میں داخل ہونے والے بنگلہ دیشی دراندازوں اور روہنگیاو¿ں کو ہندوستانی دستاویزات فراہم کرنے کا ایک بڑا نیٹ ورک اب بھی بنگال میں سرگرم ہے۔ اس حوالے سے کئی بار سابقہ تری نامول حکومت کو مرکز نے خبردار کیا تھا۔ لیکن اس سلسلے میں کوئی اقدام نہیں اٹھایا گیا، جس کا بار بار بنگال آ کر امت شاہ نے الزام لگایا تھا۔ ذرائع کے مطابق، اس نیٹ ورک سے منسلک ماسٹر مائنڈز بھاری رقم کے عوض آدھار کارڈ سے لے کر تمام ہندوستانی شناختی دستاویزات تیار کر دیتے ہیں۔ انہی دستاویزات کی بنیاد پر درانداز اتر پردیش سمیت ملک کے مختلف حصوں میں پھیل جاتے ہیں۔ اور حکومت اس نیٹ ورک کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا چاہتی ہے! اسی مقصد کے تحت بنگال سمیت ملک کے متعدد مقامات پر انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کی تلاشی مہم جاری ہے۔

