فری ہونے کی وجہ سے سرکاری بسوں میں خواتین مسافروں کی تعداد میں چودہ فیصد اضافہ
فری ہونے کی وجہ سے سرکاری بسوں میں خواتین مسافروں کی تعداد میں چودہ فیصد اضافہ
یکم جون سے خواتین کا سرکاری بسوں میں مفت سفر شروع ہو گیا ہے۔ ایسی، نان ایسی تمام قسم کی بسوں میں یہ سہولت مل رہی ہے۔ سات دن گزر چکے ہیں۔ گزشتہ سات دنوں کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ سرکاری بسوں میں خواتین مسافروں میں 14 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ محکمہ نقل و حمل کے ذرائع کے مطابق، پہلے جہاں سرکاری بسوں میں 42-43 فیصد خواتین سفر کرتی تھیں، اب یہ تعداد بڑھ کر 56 فیصد ہو گئی ہے۔ اس اضافی 14 فیصد میں سے زیادہ تر اضافہ سرکاری ایسی بسوں میں ہوا ہے۔ جنہوں نے کبھی ماضی میں ایسی بس میں سفر نہیں کیا تھا، وہ بھی اب اس بس کے مسافر بن گئے ہیں۔ ایک لفظ میں کہا جائے تو حکومت کے اس فیصلے سے خواتین بے حد خوش ہیں۔
یہ سہولت کیسے چل رہی ہے؟ بس میں سوار ہونے والی ہر خاتون مسافر کو زیرو بیلنس ٹکٹ دیا جا رہا ہے۔ تاہم کنڈکٹر اس مسافر سے پوچھ کر کہ وہ کہاں سے کہاں جانا چاہتی ہیں، اس فاصلے کی بنیاد پر صفر روپے کا ٹکٹ جاری کر رہے ہیں۔ لیکن ان سات دنوں میں خواتین مسافروں کو کل کتنی رقم کے ٹکٹ جاری کیے گئے، اس کا حساب ابھی تک محکمہ نے نہیں بتایا ہے۔ نوابان (راج بھون) کے ذرائع کے مطابق، خواتین کے مفت سفر کے اخراجات کے پیش نظر محکمہ خزانہ نے پانچ کارپوریشنوں کو پہلے ہی ساڑھے 12 کروڑ روپے فی کارپوریشن دے دیے ہیں۔ یہ رقم خرچ ہونے کے بعد ہر ماہ خواتین کے بس کرایہ کے اخراجات نوابان کارپوریشنوں کو ادا کرے گا۔ سی ایس ٹی سی، سی ٹی سی، ڈبلیو بی ایس ٹی سی، ایس بی ایس ٹی سی اور این بی ایس ٹی سی کو یہ رقم دی گئی ہے۔محکمہ نقل و حمل کے ذرائع کے مطابق، اس سہولت کے آغاز سے پہلے جو سروے کیا گیا تھا، اس میں یہ دیکھا گیا کہ کولکاتا اور مضافات میں مل کر روزانہ 1 لاکھ 80 ہزار سے 2 لاکھ مسافر سرکاری بسوں میں سفر کرتے ہیں۔ یعنی حساب کے مطابق فی الحال تقریباً پچیس ہزار مسافروں کا اضافہ ہوا ہے۔ ایسی اور نان ایسی ملا کر فی ٹرپ تقریباً 600 کے لگ بھگ بسیں اب سڑکوں پر اتر رہی ہیں۔

