مٹیا برج میں محرم کے دن سے لے کر اب تک بھاری تناﺅ، لوگوں میں خوف و ہراس

مٹیا برج میں محرم کے دن سے لے کر اب تک بھاری تناﺅ، لوگوں میں خوف و ہراس

مٹیا برج کے برجو نالا میں ایک واقعہ کو لے کر پورے علاقے میں تناﺅ بنا ہوا ہے۔عام لوگوں اس لئے ڈرے اور سہمے ہوئے ہیں کہ کب بم چل جائے۔ اس وجہ لوگوں بہت احتیاط کے ساتھ راستے میں چل رہے ہیں۔وہاں علاقے میں ایک ویڈیو وائرل ہوا ہے جس میں محمد مختار کے قریبی محمد جنید اور ان کے ایک ساتھی کو ایک نوجوان لڑکے کو پکڑ کر پیٹتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔ یہ ویڈیو تیزی سے پورے شہر میں وائرل ہوگیا۔ اسی واقعہ کو لے کر وہاں ہنگامہ مچا ہوا ہے۔
واضح رہے کہ یوم عاشورہ کے موقع پر کانگریس کے ضلع صدر محمد مختار کو چند لوگوں نے پگڑی باندھنے کے لئے برجو نالا بلا تھا۔وہ اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ برجو نالا پہنچے۔ وہاں ٹریفک میں جہاں ان کی گاڑی ٹھہری ہوئی تھی وہاںایک نوجوان آتا ہے اور محمد مختار کو دیکھ کر ان پر طمانچہ جڑ دیتا ہے جیسا کہ محمد مختار کا دعویٰ ہے۔ یہ دیکھ کر محمد مختار کے ساتھ سفر کرنے والے ان کے ساتھی باہر آتے ہیں اور اس لڑکے کو پکڑ کر مارنا شروع کر دیتے ہیں۔ دوسری طرف ایک اور نوجوان اپنے ساتھی کو چھڑانے کےلئے آتا ہے اسے بھی پکڑ کر مارنے کی کوشش کی جاتی ہے۔اس واقعہ کی وجہ سے علاقے میں کشیدگی پھیل گئی۔ پولس تک بات پہنچ گئی ۔ پولس نے فوراً کارروائی کرتے ہوئے محمد جنید کو گرفتار کر لیا ۔جن لوگوںنے مارا تھا ان کے چھ لوگوںکو گرفتار کر لیا گیا۔ دوسری طرف محمد مختار کی شکایت پر ان پر حملہ کرنے والے اکرام کوگرفتار کر لیا جا تاہے۔ محمدمختار کی طرف سے کہا گیا کہ برجونالہ کے بس اسٹینڈ کی زمین کو لے کر تنازع چل رہا تھا۔ محمد مختار نے مداخلت کرکے معاملے کو حل کرادیا لیکن ایک فریق کو یہ پسند نہیں آیا۔ ان ہی کی جانب سے یہ حملہ کیا گیااور اس کے لئے شہر یار کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا۔ شہر یاز ایم آئی سی شمس الزماں انصاری کا بھانجہ ہے۔شہر یار اس الزام سے انکار کرتے ہوئے کہا میرے گھر کے قریب کھڑی میری گاڑیوں میں توڑ پھو ڑ کی گئی۔ میں نے جب پولس سے رابطہ کیا تو پولس نے مجھے میں گھر میں ہی رہنے کو کہا گیا۔ شہر یا ر نے بتایا کہ میں جائے وقوعہ پر نہیں تھا لیکن پولس میں میرے نام سے شکایت کی گئی ہے۔نوجوان نے کیوں اور کس وجہ سے محمد مختار کو طمانچہ جڑا یہ مجھے پتہ نہیں ہے۔پھر بھی میرا نام لیا جا رہا ہے۔اسی واقعہ کی وجہ سے علاقے میں تناﺅ ہے۔ دوسری طرف معاملے کو حل کرنے کی بھی کوشش کی جا رہی ہے۔ محمد مختار کی جانب سے کہا جا رہا ہے کہ پولس اگر چاہے تو معاملے کا حل نکالا جا سکتا ہے ۔ان لوگوں کو کہنا ہے کہ جو ہوا سو ہوا اب علاقے میں امن قائم ہونا چاہئے۔
Back to top button
Translate »