پارک اسٹریٹ گویا کمبھ میلہ بن گیا،ایکو پارک اور چڑیہ گھر میں لوگوںکو ازدہام
پارک اسٹریٹ گویا کمبھ میلہ بن گیا،ایکو پارک اور چڑیہ گھر میں لوگوںکو ازدہام

کولکاتا26دسمبر: جو شخص اشٹمی کی شام ‘چیتلا اگرانی’ میں تھا، وہی کرسمس پر پارک اسٹریٹ کی جادوئی روشنیوں میں نہائے ہوئے ایلن پارک میں نظر آیا۔ جہاں جشن منانا ہی مقصد ہو، وہاں کسی کی کیا مجال کہ روک سکے۔ عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت کے اس موقع پر کھچا کھچ بھری بھیڑ میں کرسٹوفر جاربر، اتپل دے اور ابو عبیدہ کندھے سے کندھا ملا کر چلے۔ "مذہب جس کا بھی ہو، تہوار سب کا ہے” کا مقولہ ہر قدم پر سچ ثابت ہوا۔ رسل اسٹریٹ، چورنگی اور کڈ اسٹریٹ سے ہوتا ہوا انسانی سمندر کولکتہ کے ‘صاحب پاڑہ’ میں ا±مڈ آیا۔ لوگوں نے سیلفیاں لیں اور ‘رچ فروٹ کیک’ کے ذائقے چکھے۔ سروں پر پلاسٹک کے رینڈیئر (ہرن) کے سینگ لگائے نوجوان لڑکیوں کی چیخ و پکار نے وقت گزرنے کے ساتھ پارٹی کی تعریف ہی بدل دی۔
صبح کے وقت تفریحی پارکوں اور چڑیا گھر میں دم گھٹنے والی بھیڑ تھی۔ علی پور چڑیا گھر کے ذرائع کے مطابق، کرسمس پر 44 ہزار سے زائد افراد وہاں پہنچے۔ ایکو پارک کے چڑیا گھر میں تقریباً پانچ ہزار تماشائی آئے۔ انڈین میوزیم میں بھی زبردست بھیڑ رہی۔ وکٹوریہ میموریل اور سائنس سٹی میں دوپہر بھر خاندانوں کے پکنک کا سماں رہا۔ اس دن وکٹوریہ میں 34,151 اور ایکو پارک میں 50,700 افراد نے قدم رکھا۔ شہر کے ہر نائٹ کلب میں ‘جنریشن زیڈ’ (Generation Z) کا ہجوم رہا۔ بیرون ملک کام کرنے والے کئی لوگ اس موسم میں گھر واپس آتے ہیں۔ اوپر سے سیزن کا سرد ترین دن، ایسے سنہری موقع پر بنگالی گھر میں کیسے رہتا؟ نوعمر نوجوان صبح سویرے ہی میدان سے پارک اسٹریٹ تک نکل پڑے۔ شہر کے ہر کیفے اور ریستوراں میں تل دھرنے کی جگہ نہ تھی۔
"لیٹس پارٹی” (Let’s Party)! صاحبی فیسٹیول میں ‘انگلش بریک فاسٹ’ لازمی ہے۔ امت، منجیرا کو لے کر پارک اسٹریٹ کے صدیوں پرانے ریستوراں ‘فلوریز’ (Flurys) کے باہر قطار میں کھڑا تھا۔ صبح دس بجے کرسمس (2025) کے موقع پر اس ونٹیج ریستوراں کے باہر لوگوں کا ہجوم بتا رہا تھا کہ کوئی بھی گھر میں سستی سے بیٹھنے کو تیار نہیں۔ جنہیں پارک اسٹریٹ کے قدیم ریستوراں میں جگہ نہیں ملی، انہوں نے اپنے علاقے کے کیفے میں ساسیج، بیکن اور گرلڈ ٹماٹروں کے ساتھ ‘صاحبی ناشتہ’ کیا۔ میٹرو اتھارٹی نے پہلے ہی پارک اسٹریٹ اور میدان اسٹیشن پر داخلے اور اخراج کے راستے الگ کر دیے تھے تاکہ بھیڑ کو سنبھالا جا سکے۔ کرسمس کی وجہ سے بسیں آدھی رات تک چلیں، لیکن ٹیکسی اور ایپ کیب والوں نے موقع کا فائدہ اٹھا کر لوگوں کی جیبیں کاٹیں۔ پیلی ٹیکسیوں کا کرایہ حد سے زیادہ تھا، جس کی وجہ سے عام لوگوں کو گھر واپسی میں کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔


