پنچایت ممبر سے کروڑ پتی بننے والے ترنمول رہنما کے خلاف الزامات کا پہاڑ
پنچایت ممبر سے کروڑ پتی بننے والے ترنمول رہنما کے خلاف الزامات کا پہاڑ
ایک زمانے میں ایک پرائیویٹ فیکٹری کا عام مزدور تھا۔ اس کے علاوہ ترنمول کانگریس کا فعال کارکن اور پھر ترنمول کا پنچایت ممبر بن گیا۔ تب سے اس کی قسمت کا چکر پلٹ گیا۔ پنچایت ممبر سے کروڑ پتی بن گئے درگاپور کے ترنمول رہنما اور فیکٹری مالک پنّالال گھوش۔ علاقے میں کان لگائیں تو سنائی دیتا ہے کہ فیکٹریوں میں عارضی مزدوروں کی بھرتی کی باگ ڈور مبینہ طور پر انہی کے ہاتھ میں تھی۔ کام حاصل کرنے کے لیے پہلے انہیں پیسے یعنی ‘کٹ منی’ جمع کروانی پڑتی تھی، یہ طویل عرصے سے الزام ہے۔ صرف یہی نہیں، بلکہ عارضی مزدوروں کی اجرت کا ایک حصہ بھی مبینہ طور پر بالآخر پنّالال کے اکاو¿نٹ میں پہنچ جاتا تھا۔ اب ان کی اس زبردست سلطنت پر الزامات کا پہاڑ ہے! پولیس الزامات کی جانچ کر رہی ہے۔
درگاپور کے ترنمول رہنما پنّالال گھوش نے عام لوگوں کی زمین پر قبضہ کر کے دفتر تعمیر کیا۔ یہیں سے حساب کتاب چلتا تھا۔
درگاپور کے کانکسا کے گوپال پور اور بانشکوپا صنعتی علاقے میں چھوٹی بڑی مل کر تقریباً 100 فیکٹریاں ہیں۔ روزانہ ہزاروں مزدور وہاں کام کرتے ہیں۔ ان فیکٹریوں میں عارضی مزدوروں کی بھرتی میں وہ خود فیکٹریوں کے غیر تحریری مالک بن گئے تھے۔ کس فیکٹری میں کس کو کام ملے گا، کس کو نہیں ملے گا، ان فیصلوں پر بھی مبینہ طور پر ان کا اثر و رسوخ تھا۔
الزام نمبر 3 – نوکری کی قیمت بھی پنّالال بابو کے نزدیک طے تھی۔ مزید الزام ہے کہ کسی سے 30 ہزار، کسی سے 40 یا 50 ہزار، تو کسی کے معاملے میں ایک لاکھ روپے تک لیے جاتے تھے۔ پیسے نہ دینے پر کام نہیں ملتا تھا، یہ بھی الزام ہے۔ من مانی سے انہیں کام سے بھی ہٹا دیا جاتا تھا۔

