انگریزوں نے ہمارے دماغ کو بدلا: بھاگوت
انگریزوں نے ہمارے دماغ کو بدلا: بھاگوت
نئی دہلی، 24 جولائی : راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے سرسنگھ چالک موہن بھاگوت نے کہا ہے کہ انگریزوں نے ہمارے دماغ کو بدل کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ ہماری روحانیت اور روایتیں غلط ہیں اور ان کی سائنس درست ہے ۔
مسٹر بھاگوت نے جمعہ کو یہاں وشوما نگلیا سبھا کی طرف سے منعقدہ ایک پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ "ہم اپنے آپ کو، اپنی روایتوں اور اپنی روحانیت کو بھول گئے ہیں۔ اسے پھر سے جاننے کا وقت آ گیا ہے ۔”
انہوں نے کہا کہ تتھاگت کے وقت میں ہماری روایتیں پھر سے قائم ہوئیں، لیکن اس کے بعد ملک پر حملوں کا سلسلہ شروع ہوا اور آخر میں جو آئے یعنی انگریزوں نے تو ہمارے دماغ کو ہی بدل ڈالا۔ انہوں نے ہمارے ذہن میں ایسا بھرم پیدا کیا کہ ہماری روحانیت اور روایتیں بھانگ اور گانجہ نیز نشیڑیوں میں زخمی موسیقی ہے اور ان کی سائنس صحیح ہے ۔
سنگھ سربراہ نے کہا کہ ملک پر حملے کا سلسلہ شروع ہونے کی وجہ سے چیزیں جو ہماری روایت کا حصہ نہیں تھیں اور ہمارے افکار کی سمت میں نہیں تھیں، انہیں قبول کرنا پڑا تھا۔ کچھ چیزیں ہم نے اپنی حفاظت کے لیے اور کچھ غیر ملکی حملہ آوروں کے دبا¶ میں قبول کیں۔ انہوں نے کہا کہ عصرِ حاضر کے مطابق مامتا کے موضوع پر مجھے بولنے کے لیے کہنا یہ اپنے اپ میں ایک تضاد ہے ۔ ایک طرح سے اس پر اجارہ داری خواتین کی ہے ، اس پر مردوں کا بولنا ٹھیک نہیں ہے ۔ اس موضوع پر وشوما نگلیا سبھا کے ذریعہ جامع بحث ہو چکی ہے اور اس موضوع میں اپنا نقطہ نظر کیا ہے ، اپنی روایت کیا ہے ، آج کے دور میں کیسے چلنا ہے وغیرہ کے بارے میں بھی پرانے وقت سے بہت سارا غور و فکر ہوا ہے ۔ سوامی وویکانند جی، گاندھی جی، رابندر ناتھ ٹیگور جی وغیرہ نے جامعیت سے غور و فکر کرکے ہمارے سامنے خیالات رکھے ہیں۔
پروگرام کا موضوع دیا گیا ہے – عصرِ حاضر کے مطابق مامتا۔ مامتا کی دائمی باتیں وہی ہیں، وہ دور کے مطابق بدلتی نہیں۔ ان باتوں کی وجہ سے دور میں تبدیلی کرنے والے پیدا ہوتے ہیں۔ ازل سے کائنات مامتا کی بنیاد پر ہی چلتی آئی ہے ۔ ہر جاندار کی پیدائش ہوتی ہے تو اس میں مامتا آتی ہی ہے ، ماں رہتی ہی ہے ۔ کائنات کی تخلیق، پرورش، دیکھ بھال، یہ بغیر مامتا کے ممکن نہیں ہے ۔ مامتا کائنات کی پرورش، دیکھ بھال اور تسلسل کی بنیادی بنیاد ہے ۔ انسان کی سب سے بڑی طاقت اس کا خیال ہے ، لیکن اسے صحیح سمت دینے کا کام ماں ہی کرتی ہے ۔ ماں ہی انسان کی پہلی استاد ہوتی ہے نیز زندگی بھر جذباتی سہارے کا سب سے بڑا مرکز بھی وہی رہتی ہے ۔

