
ہائی کورٹ کے حکم پر سرکاری ہسپتالوں میں بجٹ میں اضافے میں اب کوئی رکاوٹ نہیں
ہائی کورٹ کے حکم پر سرکاری ہسپتالوں میں بجٹ میں اضافے میں اب کوئی رکاوٹ نہیں
سرکاری ہسپتالوں میں مریضوں کے کھانے کے بجٹ میں اضافے کے مقدمے میں شبھیندو ادھیکاری کی حکومت کو بڑی ریلیف ملی ہے۔ کلکتہ ہائی کورٹ کے سنگل بنچ کے حکم امتناعی کو ڈویڑن بنچ نے ختم کر دیا۔ جسٹس شمپا سرکار اور جسٹس اجے گپتا کی عدالت میں اس مقدمے کی سماعت ہوئی۔ سماعت میں آج ڈویڑن بنچ نے سنگل بنچ کے فیصلے کو منسوخ کر دیا۔ ریاستی حکومت نے 1 اگست سے بجٹ میں اضافے کا اعلان کیا تھا، لیکن سنگل بنچ کے حکم نے قانونی پیچیدگی پیدا کر دی تھی۔ تاہم آج ڈویڑن بنچ کے حکم کے بعد بجٹ میں اضافے میں اب کوئی رکاوٹ نہیں رہی، ایسا وکلائ کا کہنا ہے۔
تبدیلی کے بنگال میں سرکاری ہسپتالوں میں داخل مریضوں کے کھانے کے بجٹ میں اضافے کا اعلان شبھیندو ادھیکاری کی حکومت نے کیا تھا۔ بہتر معیار کا کھانا فراہم کرنے کے لیے ریاست نے فیصلہ کیا۔ 57 روپے سے بجٹ بڑھا کر 112 روپے کر دیا گیا۔ 23 جولائی کو اس سلسلے میں نوٹیفکیشن جاری کیا گیا۔ اس کے بعد حکومت کی ٹینڈر کو چیلنج کرتے ہوئے کلکتہ ہائی کورٹ میں ایک تنظیم نے مقدمہ دائر کیا۔ ان کا الزام تھا کہ کھانے کے فی کس بجٹ کا معاملہ زیر سماعت ہے، ایسی صورت میں نیا پرائس چارٹ کیسے بنایا گیا۔ اس کے بعد جسٹس کرشنا راو¿ نے نئے فیصلے پر حکم امتناعی جاری کر دیا، جس سے قانونی پیچیدگی پیدا ہو گئی۔ اس کے بعد سنگل بنچ کے فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے ریاستی حکومت کلکتہ ہائی کورٹ کے ڈویڑن بنچ میں گئی۔


