ماں کی تسلی بھی کام نہ آئی! اسمارٹ فون کا مطالبہ پورا نہ ہونے پر کمسن کا انتہائی فیصلہ

ماں کی تسلی بھی کام نہ آئی! اسمارٹ فون کا مطالبہ پورا نہ ہونے پر کمسن کا انتہائی فیصلہ

اسمارٹ فون کا مطالبہ پورا کرنے کی استطاعت خاندان میں نہیں تھی۔ مفلسی اور تنگ دستی کی اس حقیقت کے درمیان ایک کمسن کی زندگی بجھ گئی۔ بانکاڑہ کے 14 نمبر وارڈ کے رہائشی چودہ سالہ کمسن شبھم چٹوپادھیائے۔ اس کی موت سے پورا علاقہ غم زدہ ہے۔
راجگرام ہائی اسکول کا ساتویں جماعت کا طالب علم تھا شبھم۔ خاندان کے ذرائع کے مطابق، کچھ دنوں سے شبھم ایک اسمارٹ فون دلانے کا مطالبہ کر رہا تھا۔ لیکن گھر کی مالی حالت کو دیکھتے ہوئے وہ اس کا مطالبہ پورا نہ کر سکے۔ جمعرات کو جب گھر میں کوئی نہیں تھا، شبھم نے اپنے گلے میں پھندا ڈال لیا۔ خاندان کے افراد نے اسے بچایا اور بانکاڑہ سمیلنی میڈیکل کالج اور ہسپتال لے گئے، جہاں ڈاکٹروں نے اسے مردہ قرار دیا۔ واقعے کی تحقیقات بانکاڑہ سدر تھانے کی پولیس نے شروع کر دی ہے۔
شبھم کے والد شیتل چٹوپادھیائے پیشے سے ڈرائیور ہیں۔ مقامی افراد کے ایک حصے کا دعویٰ ہے کہ وہ طویل عرصے سے نشے کا عادی ہے۔ والدہ نکیتا چٹوپادھیائے دوسروں کے گھر کھانا پکاتی ہیں۔ کسی طرح گزر بسر ہو رہی تھی۔ گھر کی محدود آمدنی میں ہی دن گزر رہے تھے۔ آنسو بھری آواز میں والدہ نکیتا نے کہا: "بیٹا کچھ دنوں سے موبائل دلانے کا کہہ رہا تھا۔ میں نے سمجھایا تھا کہ ابھی ہمارے پاس پیسے نہیں ہیں، تھوڑا وقت دو تو دلاو¿ں گی۔ میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ وہ ایسا فیصلہ لے لے گا۔” طالب علم کے والد نے کہا: "میں گاڑی چلا کر جو کچھ کما تا ہوں، اس میں گزر بسر مشکل ہے۔ موبائل نہیں دلوا سکا۔ اپنے بیٹے کو کبھی واپس نہیں پاو¿ں گا۔پڑوسیوں کے مطابق شبھم ایک شانت اور ذہین طالب علم تھا۔ اس کی قبل از وقت موت نے نہ صرف ایک خاندان بلکہ پورے علاقے کو غمزدہ کر دیا ہے۔ تاہم، موبائل نہ ملنے کا غصہ ہی واحد وجہ ہے یا اس کے پیچھے کوئی اور وجہ ہے، پولیس تحقیقات کر رہی ہے۔ لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دیا گیا ہے۔

Back to top button
Translate »