پارتھو بھومک کے قریبی سنت دے ایمبولنس ہیلپر سے کروڑ پتی بن گئے

پارتھو بھومک کے قریبی سنت دے ایمبولنس ہیلپر سے کروڑ پتی بن گئے

بالکل فلم کی مانند۔ ابتدائی زندگی میں ایمبولینس کے ہیلپر تھے۔ لیکن بعد میں نہاٹی کے وہی سنت دے کروڑ پتی بن گئے۔ سانسد پار?? بھومک کے سائے میں سنت کی ترقی ہوئی، ایسا سنا جاتا ہے۔ ترنمول کے اس سابق ایم ایل اے سنت کو پولیس نے گرفتار کیا ہے۔
سنت دے ہمیشہ سے ترنمول کے فعال کارکن کے طور پر جانے جاتے تھے۔ پیشہ ایمبولینس کے مددگار یا ہیلپر کا تھا۔ گزشتہ 2021 میں وہ نہاٹی ٹاو¿ن ترنمول یوتھ کے صدر بنے۔ سیاست کرتے کرتے اس وقت کے ایم ایل اے پارھ بھومک کی ‘نظرِ کرم’ میں آ گئے سنت۔ 2024 میں پارھ بھومک لوک سبھا الیکشن لڑے۔ ایم پی بن گئے۔ ایم ایل اے کی سیٹ خالی ہوگئی۔ پارھ بھومک کے ‘سائے ساتھی’ سنت کو ایم ایل اے کے ضمنی انتخاب میں ٹکٹ دیا گیا۔ الیکشن لڑ کر ترنمول ایم ایل اے بن گئے۔ اس کے بعد 2026 کے اسمبلی انتخابات میں بھی انہیں ٹکٹ دیا گیا۔ ایک زمانے میں سنت دے کونسلر بھی تھے۔ علاقے میں کھیل کے میدان میں کافی ترقی کی ہے، مقامی باشندوں کے ایک حصے کا دعویٰ ہے۔
تاہم سنت دے کے خلاف الزامات بھی بے شمار ہیں۔ سنا گیا ہے کہ سیاسی اثر و رسوخ کو استعمال کرتے ہوئے وہ مختلف بدعنوانیاں کرتے رہے ہیں۔ ڈکیتی میں وہ ماہر تھے۔ پھر 2021 کے اسمبلی انتخابات کے بعد کے تشدد کے مقدمے میں بھی سنت کا نام آیا تھا۔ دوبارہ لیبر منسٹر ارجن سنگھ نے سابق ترنمول ایم ایل اے کے خلاف جعلی ادویات فروخت کرنے کا الزام بھی لگایا ہے۔ اس طرح کے متعدد الزامات کی وجہ سے مقامی لوگ عملاً پریشان رہتے تھے۔ ترنمول کے دور میں تھانے میں شکایت درج ہوئی تھی۔ تاہم پولیس نے اس وقت کوئی خاص اقدام نہیں لیا، یہ الزام ہے۔ حکومت کی تبدیلی کے بعد سے سنت دے کے خلاف عوام کا غصہ بہت بڑھ گیا۔ چھبیس کے انتخابات کے بعد پارٹی دفتر کھولنے گئے تو ان پر انڈوں کا حملہ بھی ہوا۔ ‘چور، چور’ کے نعرے بھی لگائے گئے۔ جمعہ کی رات دتاپوکر سے انہیں گرفتار کیا گیا۔ ہفتہ کو باراک پور عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

Back to top button
Translate »