مندر بنے، چرچ بنے، لیکن مسجد بھی بننی چاہیے :طٰہٰ صدیقی

مندر بنے، چرچ بنے، لیکن مسجد بھی بننی چاہیے :طٰہٰ صدیقی


ہوگلی30دسمبر: پیر کے روز وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے نیو ٹاو¿ن میں ’درگا آنگن‘ کا سنگ بنیاد رکھ دیا ہے۔ انہوں نے اعلان کیا ہے کہ وہ آئندہ جنوری میں شمالی بنگال میں مہاکال مندر کا سنگ بنیاد بھی رکھیں گی۔ انتخابات سے قبل بنگال کی سیاست میں مندر اور مسجد کے حوالے سے بحث و مباحثہ عروج پر ہے۔ اسی دوران فرقفرہ شریف کے پیرزادہ طٰہٰ صدیقی نے اپنی آواز بلند کی ہے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ مندر بنے، چرچ بنے، لیکن مسجد بھی بننی چاہیے۔ صرف یہی نہیں، انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ مندر بنا کر ممتا بنرجی غلطی کر رہی ہیں۔
درگا آنگن کے سنگ بنیاد کے بعد پیرزادہ طٰہٰ صدیقی نے کہا کہ جس امید کے ساتھ وہ ہندوو¿ں کے لیے مندر بنوا رہی ہیں، وہ کامیاب نہیں ہوگی۔ ان کے بقول، ”ممتا بنرجی جس طرح سے کام کر رہی تھیں، انہیں مندر یا مسجد بنانے کی ضرورت نہیں تھی۔ لیکن وہ ان ہندو ووٹوں کو اپنی طرف کھینچنا چاہتی ہیں جو ادھر ادھر منتشر ہو گئے ہیں۔“
طٰہٰ صدیقی نے مزید کہا، ”درگا آنگن بن رہا ہے، جگن ناتھ مندر بن گیا ہے۔ کسی ہندو بھائی نے ممتا بنرجی سے مندر بنانے کے لیے نہیں کہا تھا۔ لیکن ہم اقلیتوں نے مسجد مانگی تھی، وہ کیوں نہیں بنے گی؟ ممتا بنرجی سوچ رہی ہیں کہ مندر بنا کر وہ ہندوو¿ں کے دل جیت لیں گی اور جو ووٹ ان سے دور ہو گئے ہیں وہ واپس آ جائیں گے۔ میرا خیال ہے کہ وہ غلطی کر رہی ہیں۔ دوسری طرف اقلیتیں بھی اس معاملے پر برہم ہیں۔“

Back to top button
Translate »