موبائل کی روشنی دیکھ کر ریسکیو کرنے والوں نے آگ میں پھنسے لوگوںکو نیچے اتارا

موبائل کی روشنی دیکھ کر ریسکیو کرنے والوں نے آگ میں پھنسے لوگوںکو نیچے اتارا

تقریباً ایک ہفتہ قبل بنگلہ دیش سے کلکتہ گھومنے آئی تھیں سومیہ اختر۔ ان کے ہمراہ ان کے شوہر رضاول اسلام تھے۔ دو دن پہلے نیو مارکیٹ علاقے کے مرزا غالیب سٹریٹ کے ‘شکھا ان’ ہوٹل میں کمرہ کرائے پر لیا تھا۔ منگل کی گہری رات اچانک ان کے کمرے کے دروازے پر کسی نے زور زور سے دستک دی۔ انہیں معلوم ہوا کہ آگ لگ گئی ہے۔ جان بچانے کے لیے وہ کھڑکی کے راستے نیچے کارنس پر اتر گئے۔ بعد میں فائر بریگیڈ پہنچ کر سیڑھی کے ذریعے جوڑے کو نیچے اتارا۔
بچاو¿ کے بعد کئی گھنٹے گزر چکے ہیں۔ لیکن ابھی تک سومیہ اور رضاو¿ل اس خوف سے باہر نہیں آ سکے۔ کیسے کھڑکی سے باہر نکلے، کیسے کارنس پر کھڑے رہے، اس کے بعد کیسے انہیں بچایا گیا، یہ سوچ کر جوڑا کانپ اٹھتا ہے۔ سومیہ نے بتایا، "رات تقریباًڈیڑھبجے اچانک ہمارے کمرے کے دروازے پر کسی نے زور زور سے دستک دینا شروع کر دی۔ میں جاگ رہی تھی۔ دستک کی آواز سے میرے شوہر کی نیند ٹوٹ گئی۔ دونوں نے بستر چھوڑ کر جا کر دروازہ کھولا تو دیکھا کہ برآمدہ دھوئیں سے بھر گیا ہے۔

Back to top button
Translate »