نیو مارکیٹ کے علاقے کے مزید 17 ہوٹلوں کو فائر بریگیڈ کا نوٹس!، 24 گھنٹے میں جواب طلب

نیو مارکیٹ کے علاقے کے مزید 17 ہوٹلوں کو فائر بریگیڈ کا نوٹس!، 24 گھنٹے میں جواب طلب

نیو مارکیٹ کے علاقے کے مزید 17 ہوٹلوں کو فائر بریگیڈ نے نوٹس جاری کیا ہے۔ ان ہوٹلوں میں آگ بجھانے کے انتظامات میں غفلت کی شکایات سامنے آئی ہیں۔ ہوٹل انتظامیہ سے 24 گھنٹے کے اندر جواب طلب کیا گیا ہے۔ اگر تسلی بخش جواب نہ ملا تو ہوٹلوں کو بند بھی کیا جا سکتا ہے۔
منگل کی رات نیو مارکیٹ کے مرزا غالب اسٹریٹ کے ہوٹل ‘شکھا ان’ میں آگ لگ گئی تھی۔ دھوئیں کے باعث دم گھٹنے سے 9 افراد جاں بحق ہو گئے۔ ان میں سے سات افراد بنگلہ دیشی شہری تھے۔ اس واقعے کے بعد انتظامیہ سخت ہو گئی ہے۔ کلکتہ پولیس کی جانب سے خصوصی تفتیشی ٹیم (ایس آئی ٹی) تشکیل دی گئی ہے۔ انہوں نے ایک شخص کو گرفتار بھی کیا ہے۔ تاہم ہوٹل کے مالک کا ابھی تک پتہ نہیں چل سکا۔ آگ کے اس واقعے سے سبق لیتے ہوئے میونسپل کارپوریشن اور فائر بریگیڈ نے ہوٹلوں پر نگرانی بڑھا دی ہے۔ جمعرات کو مرزا غالب اسٹریٹ کے ہی 9 گیسٹ ہاو¿سز اور 4 ریستورانوں کو نوٹس جاری کیا گیا تھا۔ ان سے بھی 24 گھنٹے میں جواب طلب کیا گیا تھا۔ جمعہ کو اس فہرست میں مزید 17 ہوٹلوں کے نام شامل کر دیے گئے۔

نئے سرے سے نوٹس مارکوئس اسٹریٹ کے 10 ہوٹلوں کو جاری کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ، فہرست میں مرزا غالب اسٹریٹ کے پانچ، ایس این بنرجی روڈ کا ایک اور تپسیا روڈ کا ایک ہوٹل شامل ہے۔ ان تمام ہوٹلوں کے مالکان کو فائر بریگیڈ نے نوٹس بھیجے ہیں۔ کیوں نہ ہوٹلوں کو بند کر دیا جائے، اس کی وضاحت ہفتہ تک انہیں جمع کروانی ہوگی۔

مرزا غالب اسٹریٹ کے واقعے پر بی جے پی نے سابقہ حکومت کی غفلت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ وزیر اعلیٰ شبھیندو ادھیکاری اور محکمہ شہری ترقی کی وزیر اگنمترا پال نے سوال اٹھایا کہ کم سے کم سہولیات کے بغیر ان ہوٹلوں کو ٹریڈ لائسنس کیسے مل گیا؟ فائر بریگیڈ کی اجازت یا میونسپل کارپوریشن کی منظوری انہیں کیوں دی گئی؟ سابق وزیر شہری ترقی فیرہاد حکیم نے تاہم کہا کہ ٹریڈ لائسنس ہے یا نہیں، یہ دیکھنا ان کے بس کی بات نہیں تھی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ الزام تراشی کی سیاست سے کوئی فائدہ نہیں۔

ذرائع کے مطابق، منگل کی رات ڈیڑھ بجے سے دو بجے کے درمیان ‘شکھا ان’ کے ریسپشن میں آگ لگی تھی۔ وہاں سے کمرے تک دھواں تیزی سے پھیل گیا۔ ہوٹل میں داخلے اور باہر نکلنے کا ایک ہی تنگ دروازہ تھا، جو ریسپشن کے پاس تھا۔ اس وجہ سے مکینوں میں سے کوئی باہر نہ نکل سکا۔ 10 مکینوں میں سے 8 کی موت دھوئیں کے باعث دم گھٹنے سے ہوئی۔ کمروں کے اندر بستر، فرش اور بیت الخلائ سے ان کی لاشیں برآمد کی گئیں۔ الزام ہے کہ صرف 1100 مربع فٹ میں پانچ کمرے بنائے گئے تھے، ہر کمرے کے ساتھ غسل خانہ منسلک تھا۔ کوئی قاعدہ نہیں مانا گیا۔ پولیس نے جس ابو ظفر کو گرفتار کیا ہے، اس نے مالک بیریشور مترا سے ہوٹل لیز پر لیا تھا۔ بیریشور ابھی تک فرار ہے۔

Back to top button
Translate »