
جان بچانے کے لیے خون کا پتہ دینا ہو گا بلڈ بینک کو
جان بچانے کے لیے خون کا پتہ دینا ہو گا بلڈ بینک کو
تھیلیسیمیا کے مریض کو خون کی تلاش میں بھاگ دوڑ کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ اگر کسی بلڈ بینک میں مخصوص گروپ کا خون نہ ہو تو کیا قریبی بلڈ بینک میں ملے گا؟ یہ بتانا اس بلڈ بینک کی ذمہ داری ہوگی۔ مغربی بنگال حکومت نے نیا ہدایت نامہ جاری کیا ہے۔ یہ سرکلر ہر سرکاری بلڈ بینک کے لیے جاری کیا گیا ہے۔ خون کی تلاش کیسے ہوگی؟ ہر خون کے تھیلے پر ‘آر ایف آئی ڈی’ (ریڈیو فریکوئنسی آئی ڈنٹیفکیشن) ٹیگ لگانا ہوگا۔ اس ٹیگ کے ذریعے متعدد معلومات منسلک ہوں گی۔ اس تھیلے میں کس بلڈ گروپ کا خون ہے، دیگر اجزائ (پلازما، پلیٹ لیٹ) ہوں تو ان کی بھی تفصیلات، اس کی جمع کرنے کی تاریخ، میعاد ختم ہونے کی تاریخ۔ اب ہر بلڈ بینک ایک نیٹ ورک کے ذریعے منسلک ہوگا۔
نیشنل بلڈ ٹرانسفیوڑن کونسل کے گورننگ باڈی کے رکن بشوروپ بشواس نے بتایا کہ ریاستی حکومت کے اس نئے فیصلے کو سراہتے ہیں۔ اس ٹیکنالوجی کو استعمال کرتے ہوئے معلوم ہو سکے گا کہ قریبی کس بلڈ بینک میں مطلوبہ گروپ کا خون موجود ہے۔ بنگاو¿ں سے باراسات آ کر تھیلیسیمیا کا مریض واپس نہیں جائے گا۔ باراسات کے بلڈ بینک سے ہی بتا دیا جائے گا کہ کمارہاٹی کے ساگر دتہ میں مطلوبہ گروپ کا خون موجود ہے۔
نئے ہدایت نامے میں مزید کہا گیا ہے کہ جائز ریکوزیشن یا مانگ نامہ لے کر آنے پر بلاوجہ تاخیر نہ کی جائے۔ جلدی خون دیا جائے۔ نئے ہدایت نامے میں واضح کہا گیا ہے کہ ہر سرکاری بلڈ بینک میں تھیلیسیمیا کے مریضوں کو خاص اہمیت دی جائے۔ کسی طرح ان کی توہین نہ ہو۔ محکمہ صحت رضاکارانہ خون کے عطیہ کیمپوں میں عطیہ دہندگان کی تعداد بڑھانے کے لیے پ±رعزم ہے۔ تمام بلڈ بینک کے عملے، خاص طور پر کاو¿نٹر پر بیٹھنے والوں کو کہا گیا ہے کہ خون لینے آنے والوں کے ساتھ مہذب، شائستہ اور ہمدردانہ سلوک کریں۔


