سرکاری اسکولوں کے اساتذہ کو کب ملے گا باقی ڈی اے؟ ریاست سے رپورٹ طلب

سرکاری اسکولوں کے اساتذہ کو کب ملے گا باقی ڈی اے؟ ریاست سے رپورٹ طلب

ریاستی سرکاری اسکولوں کے اساتذہ اور اسکول عملے کو باقی ڈی اے کب ملے گا؟ اب ریاست کو اپنا موقف واضح کرنے کو کہا کلکتہ ہائی کورٹ نے۔ 11 ستمبر تک ریاست سے رپورٹ طلب کی گئی ہے۔ ریاستی حکومت کو تحریری طور پر ڈی اے سے متعلق تمام موقف عدالت میں پیش کرنا ہو گا۔
سپریم کورٹ میں ریاستی حکومت نے بتایا تھا کہ سرکاری ملازمین کا باقی ڈی اے کا 65 فیصد دے دیا گیا ہے۔ لیکن بہت سے ملازمین کو ابھی تک ڈی اے نہیں ملا۔ الزام ہے کہ سرکاری ملازمین کو ان کا باقی ڈی اے مل گیا، تاہم جو سرکاری اسکول ہیں، ان اسکولوں کے اساتذہ یا عملے کو ابھی تک وہ نہیں ملا۔ اس سلسلے میں اساتذہ کی تنظیم اے بی ٹی اے نے ہائی کورٹ کی توجہ مبذول کروائی۔ عدالت میں اس مقدمے کی پیروی وکیل فردوس شمیم نے کی۔ جسٹس امرتا سنگھ کی بنچ میں جمعہ کو اسی مقدمے کی سماعت ہوئی۔ عدالت نے کہا کہ ڈی اے کے بارے میں حکومت کو اپنا موقف واضح کرنا ہو گا۔
سپریم کورٹ میں ریاست نے بتایا کہ سرکاری ملازمین، سرکاری اسکولوں کے ملازمین اور پنشن یافتگان کا باقی ڈی اے ادا کرنے پر تقریباً 42 ہزار کروڑ روپے لاگت آئے گی۔ ریاست کی پیش کردہ رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ سرکاری ملازمین کا ڈی اے دینے پر 11 ہزار 790 کروڑ، سرکاری اسکولوں کے ملازمین کا ڈی اے دینے پر 18 ہزار 369 کروڑ اور پنشن یافتگان کا ڈی اے دینے پر 11 ہزار 611 کروڑ روپے خرچ ہوں گے۔ لیکن مقدمہ کرنے والوں کا الزام ہے کہ انہیں ابھی تک ڈی اے کی رقم نہیں ملی۔ 11 ستمبر تک اس سلسلے میں ریاست کو اپنا موقف بتانے کو کہا ہے عدالت نے۔ صرف اساتذہ یا اسکول عملہ ہی نہیں، سرکاری اسکولوں کے دیگر ملازمین یا پنشن یافتہ افراد بھی ابھی تک باقی ڈی اے سے محروم ہیں۔

Back to top button
Translate »