رات کو گھر چھوڑنے کے معاملے کو لے کر مہوا سپریم کورٹ گئیں

رات کو گھر چھوڑنے کے معاملے کو لے کر مہوا سپریم کورٹ گئیں

ندیا کے سرکٹ ہاو¿س کو چھوڑنے کے ‘حکم’ کے گرد تنازعہ میں اب سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا مہوا مائیترا نے۔ اس واقعے کے حوالے سے پیر کو انہوں نے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سریا کانت کی قیادت والے بنچ کی توجہ مبذول کرائی۔ ترنمول کانگریس کی رکن پارلیمان کا کہنا ہے کہ اس واقعے میں وفاقی ڈھانچے کے معاملات شامل ہیں۔ لہذا انہوں نے اس پر غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا۔یہ واقعہ یوم آزادی سے پہلے کی رات پیش آیا۔ اس دن شام کو مہوا کرشنا نگر کے سرکٹ ہاو¿س گئی تھیں۔ رکن پارلیمان کا دعویٰ ہے کہ وہ سرکٹ ہاو¿س میں پہلے بھی رہ چکی ہیں۔ جس کمرے میں ٹھہرتی ہیں، وہی کمرہ ان کے لیے کھولا گیا تھا۔ وقت پر چائے اور رات کا کھانا رکن پارلیمان کو پیش کیا گیا۔ لیکن اس کے بعد رات تقریباً ۹:۴۵ بجے ضلع انتظامیہ نے انہیں فون کر کے کمرہ خالی کرنے کو کہا، یہ مہوا کا الزام ہے۔ رکن پارلیمان کا دعویٰ ہے کہ وجہ پوچھنے پر بتایا گیا، ‘اوپر سے حکم’ آیا ہے۔
مہوا کا الزام ہے کہ بعد میں انہیں اس سلسلے میں ایک نوٹیفکیشن بھی بھیجا گیا۔ جس میں کہا گیا کہ ۱۴ اگست کی شام سے دیکھ بھال اور صفائی کے لیے سرکٹ ہاو¿س بند رہے گا۔ ۱۳ اگست سے پہلے کی تصدیق شدہ بکنگز اس سے مستثنیٰ تھیں۔ لیکن بکنگ کے وقت یا سرکٹ ہاو¿س جانے کے بعد بھی کسی نے انہیں اس بارے میں کچھ نہیں بتایا، یہ رکن پارلیمان کا دعویٰ ہے۔ ان کا سوال ہے کہ اگر ایسا کوئی حکم تھا تو انتظامیہ نے انہیں بتانے کے لیے رات ۱۰ بجے تک کیوں انتظار کیا؟ مہوا کا کہنا ہے کہ انہوں نے کمرہ خالی کرنے سے انکار کر دیا۔ اس کے فوراً بعد سرکٹ ہاو¿س کے باہر بی جے پی کے کارکنوں اور حامیوں کا ایک گروپ جمع ہو گیا اور ان کے خلاف نعرے بازی شروع کر دی، یہ مہوا کا الزام ہے۔ انتظامیہ نے ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی، یہ بھی رکن پارلیمان کا الزام ہے۔

Back to top button
Translate »