
کشن جی کے نقشے پر ہی جنگل کی جنگ میں ماو لیڈر! آکاش کی تلاش میں پولیس کے پوسٹر
کشن جی کے نقشے پر ہی جنگل کی جنگ میں ماو لیڈر! آکاش کی تلاش میں پولیس کے پوسٹر
"زمین کھا گئی یا آسمان نگل گیا!” ہندی کا یہ محاورہ اب بنگال میںصادق آتا ہے-جھارکھنڈ سرحد پر جنگل کی جنگ میں عام پولیس افسر سے لے کر مشترکہ فورس کے جوانوں کی زبان پر ہے۔ کیونکہ ماو¿ لیڈر آکاش کا کوئی پتہ نہیں چل رہا۔ ملک کے وزیر داخلہ امیت شاہ کے حکم کے بعد جہاں ممنوعہ تنظیم کے پہلی صف کے متعدد رہنما اور خواتین رہنما نے خود کو سپرد کیا یا گرفتار ہوئے، یہاں تک کہ مشترکہ فورس کی گولیوں سے چھلنی ہو کر موت بھی ہوئی، وہاں صرف 5 افراد کو ساتھ لے کر گھیرا ڈالنے کے عزم پر آکاش اب بھی ڈٹا ہوا ہے! یاکشن جی کے نقشے پر کوئی بڑی تیاری ہو رہی ہے؟ اس طرف بھی نظر ہے۔
جولائی میں ماو¿ نوازوں کے مشرقی ہیڈکوارٹر جھارکھنڈ کے 700 پہاڑی گھیرے والے دور دراز سرانڈا سے آکاش سمیت 10 گوریلے چاندل-گامہاریا رینج کے راستے دالمہ اور بنگال کی طرف بڑھے تو ایک طرف پولیس کا دباو¿ بڑھ گیا تھا، اسی طرح فورس نے انہیں پکڑنے کی ہر ممکن کوشش کی۔ ایک کے بعد ایک فورس کے کیمپ قائم کیے گئے۔ اور اس صورتحال میں جب جھارکھنڈ پولیس کی تحویل میں 4 زخمی ماو¿ گوریلے آ گئے تو اس امید میں کئی گنا اضافہ ہو گیا۔ گرفتار شدگان سے پوچھ گچھ کر کے مفرور ماو¿ لیڈر کی ممکنہ اور نظریاتی حیثیت، رابطہ کاروں، رسد کی فراہمی سمیت کئی معلومات حاصل ہوئیں۔ جس کی بنیاد پر رابطہ کاروں سے پوچھ گچھ، ڈرون اڑانا، گاو¿ں کو گھیر کر کورڈن اور سرچ آپریشن، اور دور دراز پہاڑی جنگلات میں ممکنہ ٹھکانوں کی تلاشی لی گئی، مگر ایک مہینہ گزر گیا۔


