بردوان کے ٹیک کالج میں ہنگامہ، پرنسپل کے چیمبر میں توڑ پھوڑ، اے بی وی پی پر الزام

بردوان کے ٹیک کالج میں ہنگامہ، پرنسپل کے چیمبر میں توڑ پھوڑ، اے بی وی پی پر الزام

مبینہ طور پر اے بی وی پی سے وابستہ طلبہ کے ایک گروپ نے بردوان کے یونیورسٹی انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (یو آئی ٹی) میں ہنگامہ برپا کیا، قائم مقام پرنسپل کے چیمبر میں توڑ پھوڑ کی، اے بی وی پی کے مخالف دھڑے سے وابستہ طلبہ کے ساتھ مارپیٹ کی اور اساتذہ کو واش رومز میں پناہ لینے پر مجبور کر دیا۔
اگرچہ یہ تشدد بدھ کی شام ہوا تھا، لیکن پولیس نے ایف آئی آر میں نامزد کسی بھی ملزم کو گرفتار نہیں کیا ہے۔ پولیس کی کارروائی نہ ہونے پر ریاستی حکومت کی سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کے معاملے میں اختیار کی جانے والی مبینہ ”زیرو ٹالرنس“ پالیسی پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
جمعہ کے روز بھی کیمپس میں کشیدگی برقرار رہی، حالانکہ انتظامیہ نے تین ہاسٹل خالی کرا لیے ہیں۔ جھڑپ میں زخمی ہونے والے تین طلبہ کو بردوان میڈیکل کالج اینڈ ہاسپٹل میں داخل کرایا گیا ہے۔ مبینہ طور پر تقریباً 100 بیرونی افراد کے شامل ہونے والی اس پرتشدد کارروائی نے طلبہ اور اساتذہ کو شدید خوف و صدمے میں مبتلا کر دیا۔یہ تنازع اے بی وی پی کے حامیوں کے دو دھڑوں کے درمیان وشوکرما پوجا کو لے کر شروع ہوا۔ دونوں دھڑے بڑی حد تک دو الگ الگ بوائز ہاسٹلوں میں رہنے والے طلبہ پر مشتمل تھے۔
قائم مقام پرنسپل سنیل کارفورما نے کہا، ”اے بی وی پی کے دو دھڑوں نے وشوکرما پوجا منعقد کرنے کے لیے الگ الگ درخواستیں دی تھیں۔ دونوں فریقوں کو اجازت دے دی گئی تھی۔ بدھ کی شام ایک دھڑے نے میرا گھیراو¿ کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ صرف ان کی پوجا کی اجازت دی جائے۔ جب دونوں گروپوں کے درمیان کشیدگی بڑھنے لگی تو ہم نے پولیس سے رابطہ کیا، لیکن پولیس کے پہنچنے سے پہلے ہی جھڑپ شروع ہو گئی۔“صورتحال اس وقت قابو سے باہر ہو گئی جب مبینہ طور پر کچھ بیرونی افراد انتظامی حصے اور قائم مقام پرنسپل کے چیمبر میں داخل ہوئے۔ ان کے پاس آتشیں اسلحہ، بانس کی لاٹھیاں اور دیگر ہتھیار تھے۔ حملہ آوروں نے مبینہ طور پر چیمبر میں توڑ پھوڑ کی، فرنیچر، کمپیوٹر اور دیگر سامان کو نقصان پہنچایا، جس کے بعد کارفورما اور کچھ اساتذہ نے واش روم کے اندر پناہ لی۔
حملہ آوروں نے مخالف دھڑے سے تعلق رکھنے والے طلبہ کے ساتھ بھی مارپیٹ کی۔کارفورما نے اپنی شکایت میں تین طلبہ کے نام درج کیے ہیں اور الزام لگایا ہے کہ انہوں نے حملہ آوروں کی قیادت کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ حملہ آوروں نے کیمپس کی بجلی کی فراہمی منقطع کر دی، جس کی وجہ سے اندر پھنسے لوگوں کو اندھیرے میں رہنا پڑا، یہاں تک کہ پولیس اور مرکزی فورس کے اہلکاروں نے انہیں وہاں سے نکالا۔پولیس نے بتایا کہ کارفورما کی شکایت میں نامزد تینوں طلبہ کے خلاف بی این ایس ایس کی مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ ان دفعات میں قتل کی کوشش، چوٹ پہنچانے، شدید چوٹ پہنچانے، شرارت اور غیر قانونی طور پر داخل ہونے جیسے الزامات شامل ہیں۔
Back to top button
Translate »