غریب مسلمان بھی اس بار اچھا ووٹ دیں گے‘: شوبھندو ادھیکاری کا دعویٰ
غریب مسلمان بھی اس بار اچھا ووٹ دیں گے‘: شوبھندو ادھیکاری کا دعویٰ

نندی گرام3جنوری : اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شبھیندو ادھیکاری ایک بار پھر نندی گرام میں ترنمول کانگریس پر حملہ آور نظر آئے۔ انہوں نے صاف کہا کہ اگر ممتا بنرجی دوبارہ نندی گرام سے الیکشن لڑتی ہیں، تو وہ انہیں 20 ہزار ووٹوں سے شکست دیں گے۔ انہوں نے کہا، "میں چاہوں گا کہ ممتا بنرجی 2026 کے انتخابات میں دوبارہ نندی گرام سے لڑیں۔ میں انہیں 20 ہزار ووٹوں سے ہراو¿ں گا۔ تب تو ہندو ساتھ تھے ہی، اب مسلم نوجوان بھی ساتھ کھڑے ہیں۔ غریب مسلمان بھی اس بار اچھا (ووٹ) دیں گے۔” تو کیا اب بی جے پی ترنمول کے مسلم ووٹ بینک میں بھی نقب لگانے والی ہے؟ کیا پوری ریاست کے ساتھ نندی گرام میں بھی سیاسی مساوات بدل رہی ہے؟ شبھیندو کے اس تبصرے کے بعد سیاسی بحث تیز ہو گئی ہے۔
دلیپ گھوش کے دور میں بی جے پی نے ریاست میں صرف ہندوتوا کے سہارے کامیابی حاصل کی تھی۔ لیکن 2021 کے بعد دیکھا گیا کہ بی جے پی نہ صرف ہندوتوا کی لڑائی لڑ رہی ہے بلکہ ایک مسلم مخالف موقف بھی اپنا رہی ہے۔ اپوزیشن لیڈر شبھیندو ادھیکاری کو خود یہ کہتے سنا گیا تھا کہ "جو ہمارے ساتھ نہیں، ہم بھی ان کے ساتھ نہیں”۔ سیاسی تجزیہ نگاروں کی ایک بڑی تعداد کا بھی یہی خیال تھا کہ بنگال بی جے پی کے ہندوتوا پوسٹر بوائے شبھیندو نے اقتدار میں آنے کے لیے دو چیزوں پر بہت زور دیا تھا۔ پہلا، شروع سے ہی ہندو ووٹوں کو یکجا کرنے کی کوشش، اور دوسرا، اپنے انداز سے یہ ظاہر کرنا کہ انہیں مسلم ووٹوں کی ضرورت نہیں ہے۔ شبھیندو نے واضح طور پر کہا تھا کہ "ہم 39 فیصد (ہندو) ہیں، اور اگر مزید 5-6 فیصد ہندو متحد ہو جائیں تو اقتدار میں آنا ممکن ہے”۔
اسی دوران شمیک بھٹاچاریہ کو بنگال بی جے پی کے ریاستی صدر کی ذمہ داری سونپی گئی۔ تب سے ان کے منہ سے مسلسل اقلیتوں کو ساتھ لانے کے پیغامات سنائی دے رہے ہیں۔ سادہ لفظوں میں، جیسے ہی انہوں نے صدارت سنبھالی، کھیل دھیرے دھیرے بدلنے لگا اور دوسرے ساتھیوں کے ساتھ ساتھ شبھیندو کا لہجہ بھی بدل گیا۔ چند دن پہلے ہی انہوں نے کہا تھا، "میں نے کبھی نہیں کہا کہ مجھے مسلمانوں کے ووٹ نہیں چاہئیں، میں نے کہا تھا کہ مجھے (ووٹ) ملتے نہیں ہیں۔ ’19، ’21 اور ’24 کے تینوں بڑے انتخابات میں دیکھا گیا کہ بی جے پی کو ایک فیصد سے بھی کم مسلم ووٹ ملے۔

