8 ماہ کی چھوٹ کے بعد جمعہ سے جنگلات میں داخلے کی فیس دوبارہ نافذ ہوگی

8 ماہ کی چھوٹ کے بعد جمعہ سے جنگلات میں داخلے کی فیس دوبارہ نافذ ہوگی

بنگال کے محکمہ جنگلات نے ڈیڑھ سال کے وقفے کے بعد جمعہ سے ریاست بھر کے محفوظ جنگلاتی علاقوں میں جانے والے سیاحوں کے لیے داخلہ فیس دوبارہ نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس اقدام سے جنگلاتی سیر کا خرچ بڑھنے کی توقع ہے، جبکہ محکمہ جنگلات کے لیے آمدنی کا ایک ذریعہ بھی دوبارہ بحال ہوگا۔
جنوری 2025 میں اس وقت کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے علی پور دوار میں ایک پروگرام کے دوران اعلان کیا تھا کہ ریاست کے محفوظ جنگلات میں جانے والے سیاحوں سے داخلہ فیس نہیں لی جائے گی۔ اس اعلان کے بعد ضروری اجازت حاصل کرنے والے سیاح جنگلاتی علاقوں میں مفت داخل ہو سکتے تھے۔ جنگلاتی سڑکوں میں داخل ہونے والی ماروتی جپسی اور دیگر سیاحتی گاڑیوں پر عائد 480 روپے کا روڈ ٹیکس بھی معطل کر دیا گیا تھا۔
فیس معاف کیے جانے سے سیاحوں کو کچھ راحت ضرور ملی، لیکن اس کے نتیجے میں محکمہ جنگلات کو آمدنی کا نقصان بھی ہوا۔
فیس دوبارہ نافذ کرنے کا فیصلہ شمالی بنگال کے کئی جنگلاتی علاقوں کو سالانہ تین ماہ کی مانسون بندش کے بعد دوبارہ کھولے جانے کے فوراً بعد کیا گیا ہے۔
جلپائی گوڑی کے گورومارا نیشنل پارک اور چاپراماری وائلڈ لائف سینکچری، جبکہ پڑوسی ضلع علی پور دوار کے جلداپارا نیشنل پارک اور بوکسہ ٹائیگر ریزرو کو بدھ کے روز سیاحوں کے لیے دوبارہ کھول دیا گیا۔
بدھ کے روز گورومارا وائلڈ لائف ڈویڑن کے محکمہ جنگلات کے افسران نے لاتھاگوری کے نیچر انٹرپریٹیشن سینٹر میں ایک اجلاس منعقد کیا، جس میں سیاحتی سیزن کے لیے انتظامات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اجلاس میں ایڈیشنل ڈویڑنل فارسٹ آفیسر راجیب ڈے، لاتھاگوری جپسی اونرز ایسوسی ایشن کے نمائندے، ڈرائیور، گائیڈز اور ریزورٹ مالکان نے شرکت کی۔
راجیب ڈے نے کہا، ”موجودہ شرحیں جمعہ سے دوبارہ نافذ کر دی جائیں گی۔ سیاحوں کو فی کس 200 روپے داخلہ فیس ادا کرنی ہوگی، جبکہ جنگل میں داخل ہونے والی ہر گاڑی پر 480 روپے روڈ ٹیکس عائد ہوگا۔ جنگل سفاری کرنے والے کسی خاندان یا گروپ کو فی فرد داخلہ فیس کے ساتھ گاڑی کا روڈ ٹیکس بھی ادا کرنا ہوگا۔“
انہوں نے مزید کہا، ”جب تک آن لائن بکنگ کا نظام مکمل طور پر فعال نہیں ہوجاتا، تمام خدمات ہمارے محکمہ کے کاو¿نٹروں کے ذریعے دستی طور پر فراہم کی جائیں گی۔ آن لائن نظام شروع ہونے کے بعد داخلہ فیس، روڈ ٹیکس اور دیگر مقررہ فیسیں آن لائن ادا کی جاسکیں گی۔“
لاتھاگوری ریزورٹ اونرز ایسوسی ایشن کے جوائنٹ خزانچی شانّتنو گھوش نے سیاحتی خدمات کو بہتر بنانے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا، ”اگر سیاحوں سے داخلہ فیس لی جاتی ہے تو جنگلاتی علاقوں میں خدمات کا معیار بھی بہتر ہونا چاہیے۔ محکمہ کو یقینی بنانا چاہیے کہ سیاحوں کو سیر کے دوران کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔“
سیاحوں کو فی شخص 200 روپے داخلہ فیس ادا کرنی ہوگی۔ اس کے علاوہ سفاری کے لیے جنگلاتی سڑکوں میں داخل ہونے والی ہر سیاحتی گاڑی پر 480 روپے روڈ ٹیکس بھی عائد کیا جائے گا۔

Back to top button
Translate »