
انڈے برسانے کے واقعے میں مہوا کی ہائی کورٹ سے رجوع!
انڈے برسانے کے واقعے میں مہوا کی ہائی کورٹ سے رجوع!
کرشن نگر میں انڈے برسانے کے واقعے کا شکار ہونے کے بعد اب رکن پارلیمنٹ مہوا موئترا نے ہائی کورٹ سے رجوع کیا ہے۔ رکن پارلیمنٹ نے اس واقعے میں پولیس کی مبینہ بے عملی کا الزام لگایا ہے۔ پیر کو اس سلسلے میں مہوا کے وکیل نے جسٹس سوگت بھٹاچاریہ کی عدالت کی توجہ مبذول کرائی اور فوری سماعت کی بھی درخواست کی۔ جسٹس نے مقدمہ دائر کرنے کی اجازت تو دے دی، لیکن فوری سماعت کی درخواست مسترد کر دی۔ جسٹس نے کہا کہ فہرست کے مطابق ہی مقدمے کی سماعت ہوگی۔
گزشتہ ہفتے اپنی لوک سبھا حلقہ کرشن نگر میں مہوا پر انڈوں سے حملہ کیا گیا تھا۔ ان کا الزام ہے کہ عدالت کی جانب سے مناسب سکیورٹی فراہم کرنے کی ہدایت کے باوجود پولیس نے کوئی قدم نہیں اٹھایا۔ اب اسی معاملے کو لے کر رکن پارلیمنٹ نے عدالت میں مقدمہ دائر کیا ہے۔
دراصل گزشتہ بدھ کو کرشن نگر کی رکن پارلیمنٹ اپنے لوک سبھا حلقے کے تحت تہٹہ کے ہاو¿لیا پارک موڑ پر واقع پارٹی دفتر میں رہنماو¿ں اور کارکنوں کے ساتھ میٹنگ کرنے گئی تھیں۔ الزام ہے کہ ان کے وہاں پہنچنے کی خبر ملنے کے بعد بی جے پی کے چند کارکن اور حامی وہاں جمع ہو گئے۔ میٹنگ ختم کرکے مہوا جیسے ہی پارٹی دفتر سے باہر نکلیں، ان کی جانب سیاہ جھنڈے دکھائے گئے۔ ’گو بیک‘ کے نعرے لگاتے ہوئے کچے انڈے پھینکے گئے۔ مہوا نے سوشل میڈیا پر دعویٰ کیا کہ مظاہرین کو قابو کرنے کے بجائے پولیس نے انہیں زبردستی گاڑی میں بٹھا دیا۔ بعد میں مہوا نے تہٹہ تھانے میں شکایت درج کرائی۔ تاہم بی جے پی کا دعویٰ ہے کہ اس واقعے میں ملوث افراد پارٹی سے وابستہ نہیں ہیں۔
واقعے کے دن مہوا نے اپنی گاڑی سے ہی سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو پیغام پوسٹ کیا تھا۔ اس میں مہوا نے سپریم کورٹ کے جسٹس دیپانکر دت سے مخاطب ہو کر کہا تھا، ”دیکھ لیجیے، گولیوں کی طرح انڈے کھا رہی ہوں۔“ دراصل اگست میں مہوا کی تھانے میں حاضری سے متعلق ایک مقدمے میں جسٹس دت نے تبصرہ کیا تھا، ”سیاست میں آ کر انڈے پھینکے جانے سے ڈر کیوں؟ آزادی کے مجاہدین نے سینے پر گولیاں کھائی تھیں۔“


