آئی ایس ایف سے لفافہ انتخابی نشان چھن جانے کے معاملے میں ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن سے رپورٹ طلب کی، جمعرات کو پھر سماعت

آئی ایس ایف سے لفافہ انتخابی نشان چھن جانے کے معاملے میں ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن سے رپورٹ طلب کی، جمعرات کو پھر سماعت

بدھ کے روز آئی ایس ایف سے انتخابی نشان واپس لیے جانے کے معاملے میں کلکتہ ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن سے رپورٹ طلب کی۔ انڈین سیکولر فرنٹ (آئی ایس ایف) نے دو اسمبلی انتخابات میں ’لفافہ‘ انتخابی نشان پر الیکشن لڑا تھا۔ آئندہ ضمنی انتخابات میں یہ نشان اس کے ہاتھ سے نکل گیا ہے۔ اسی لیے انتخابی نشان واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے نوصاد صدیقی کی پارٹی نے 21 ستمبر کو کلکتہ ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔ بدھ کو اس معاملے کی سماعت ہوئی۔ سماعت کے بعد جسٹس کرشن راو¿ نے بتایا کہ جمعرات کو اس معاملے کی دوبارہ سماعت ہوگی۔

ریاست کی دو نشستوں پر 6 اکتوبر کو ضمنی انتخابات ہوں گے۔ اس سے پہلے الیکشن کمیشن نے ’لفافہ‘ نشان ریتبرتا بندیوپادھیائے کی قیادت والی ’ڈیموکریٹک ترنمول کانگریس‘ (ڈی ٹی سی) کو دے دیا ہے۔ نوصاد کی آئی ایس ایف کو ’الماری‘ کا انتخابی نشان دیا گیا ہے۔ اس واقعے کے بعد نوصاد نے ’لفافہ‘ نشان واپس کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے الیکشن کمیشن کو خط لکھا تھا۔ انہوں نے بتایا تھا کہ وہ ہائی کورٹ سے بھی رجوع کریں گے۔
آئی ایس ایف کا قیام 21 فروری 2021 کو عمل میں آیا تھا۔ فرفورا شریف کے پیرزادہ عباس صدیقی نے اس پارٹی کی بنیاد رکھی تھی، لیکن ابتدا ہی سے اس کی قیادت ان کے چھوٹے بھائی نوصاد کرتے آئے ہیں۔ اس وقت وقت کم ہونے کی وجہ سے انہیں الیکشن کمیشن کی جانب سے کوئی انتخابی نشان نہیں ملا تھا۔ اس لیے مجبوراً بنگال کی اس پارٹی نے بہار کی ’راشٹریہ سیکولر مجلس پارٹی‘ کا ’لفافہ‘ نشان لے کر انتخابی میدان میں قدم رکھا تھا۔
2026 کے اسمبلی انتخابات سے قبل نوصاد نے پارٹی کے مستقل انتخابی نشان کے لیے الیکشن کمیشن میں درخواست دی تھی۔ تاہم انتخابات میں ان کی پارٹی نے ’لفافہ‘ نشان پر ہی مقابلہ کیا۔ نوصاد ایک بار پھر بھانگر سے کامیاب ہوئے۔

Back to top button
Translate »