فالتا کا ایک طرفہ الیکشن پرامن چل رہا ہے
فالتا کا ایک طرفہ الیکشن پرامن چل رہا ہے
مغربی بنگال کی اسمبلی سیٹ ‘فلتہ’ (Falta) میں الیکٹرانک ووٹنگ مشین (EVM) کے ساتھ مبینہ چھیڑ چھاڑ اور انتخابی بے ضابطگیوں کے الزامات کے بعد، جمعرات کی صبح سخت ترین حفاظتی انتظامات کے درمیان دوبارہ پولنگ (Repoll) کا آغاز ہو گیا ہے۔ گزشتہ ماہ ہونے والی ووٹنگ کو الیکشن کمیشن نے بڑے پیمانے پر بے ضابطگیوں کی وجہ سے منسوخ کر دیا تھا۔
جنوبی چوبیس پرگنہ ضلع کے اس انتخابی حلقے کے ۲۸۵ بوتھوں پر صبح ۷ بجے ووٹنگ شروع ہوئی۔ حکام کے مطابق، اس حلقے میں ۲ لاکھ ۳۶ ہزار سے زائد ووٹرز اپنے حقِ رائے دہی کا استعمال کرنے کے اہل ہیں، جن میں ۱ لاکھ ۱۵ ہزار خواتین اور ۹ تھرڈ جینڈر (خواجہ سرا) ووٹرز شامل ہیں۔الیکشن کمیشن نے اس بار کسی بھی قسم کی گڑبڑ کو روکنے کے لیے سیکیورٹی کو غیر معمولی طور پر سخت کر دیا ہے:حلقے میں سینٹرل آرمڈ پولیس فورس (CAPF) کی ۳۵ کمپنیاں تعینات کی گئی ہیں۔ اس بار ہر بوتھ پر ۸ سیکیورٹی اہلکار (ایک مکمل سیکشن) موجود ہیں، جبکہ ۲۹ اپریل کو منسوخ ہونے والی ووٹنگ کے دوران ہر بوتھ پر صرف ۴ اہلکار تعینات تھے۔ہر پولنگ بوتھ کے اندر دو اور باہر ایک ویب کیمرہ لگایا گیا ہے، جس کی لائیو ویب کاسٹنگ ضلع اور ریاستی الیکشن افسران کے دفاتر سے مانیٹر کی جا رہی ہے۔ ضرورت پڑنے پر ڈرون کے ذریعے بھی نگرانی کی جائے گی۔کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لیے ۳۰ کوئیک ریسپانس ٹیمیں (QRT) الرٹ پر رکھی گئی ہیں۔اس سیٹ پر دوبارہ پولنگ کرانے کی بنیادی وجہ گزشتہ ووٹنگ کے دوران سامنے آنے والے عجیب و غریب اور سنگین الزامات تھے۔حلقے کے کئی بوتھوں سے یہ شکایتیں سامنے آئی تھیں کہ ای وی ایم (EVM) مشینوں پر مبینہ طور پر عطر (خوشبودار مادہ) اور چپکنے والی ٹیپ لگا دی گئی تھی تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے یا ووٹنگ پر اثر ڈالا جا سکے۔الیکشن کمیشن کے خصوصی مبصر سبرت گپتا نے علاقے کا دورہ کر کے جانچ کی تھی، جس میں کم از کم ۶۰ بوتھوں پر چھیڑ چھاڑ کے واضح شواہد ملے تھے۔ اس کے علاوہ سی سی ٹی وی فوٹیج کے ساتھ بھی چھیڑ چھاڑ کی کوشش کی گئی تھی۔ریاستی پولیس نے انتخابات سے قبل ہی کارروائی کرتے ہوئے فلتہ پنچایت سمیتی کے وائس چیئرمین سیدال خان سمیت کئی افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔
اس سیٹ پر کل ۶ امیدوار میدان میں ہیں، تاہم سیاسی منظرنامہ کافی دلچسپ ہو چکا ہے۔ ترنمول کانگریس (TMC) کے امیدوار جہانگیر خان نے منگل کو اچانک الیکشن سے دستبردار ہونے کا اعلان کر دیا۔ اگرچہ پارٹی نے اسے ان کا ذاتی فیصلہ قرار دیا ہے، لیکن نام واپسی کی سرکاری مدت ختم ہو جانے کی وجہ سے ان کا نام ای وی ایم پر موجود رہے گا۔بی جے پی کی طرف سے دیبانشو پانڈا، سی پی آئی (ایم) کے شمبھو ناتھ کرمی اور کانگریس کے عبدالرزاق ملا الیکشن لڑ رہے ہیں۔ واضح رہے کہ ۲۰۰? سے (صرف ۲۰۰۶ کو چھوڑ کر) اس سیٹ پر ٹی ایم سی کا قبضہ رہا ہے۔

