
اب تبتی طب کے ماہرین بھی ڈیتھ سرٹیفکیٹ جاری کر سکیں گے! نوٹیفکیشن جاری
اب تبتی طب کے ماہرین بھی ڈیتھ سرٹیفکیٹ جاری کر سکیں گے! نوٹیفکیشن جاری
اگر ایلوپیتھی، ہومیوپیتھی یا آیوروید کے ڈاکٹر دستیاب نہ ہوں تب بھی کام چل جائے گا۔ گھر پر اچانک کسی عزیز کی موت ہو جائے اور وہاں تبتی طب کا کوئی ماہر موجود ہو تو وہ بھی ڈیتھ سرٹیفکیٹ جاری کر سکے گا۔ اس سلسلے میں نیا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا ہے۔
محکمہ صحت کے نئے سرکلر میں کہا گیا ہے کہ اگر کسی شخص کی موت ہسپتال یا صحت کے کسی ادارے سے باہر ہوتی ہے تو فارم 4-اے پر موت کا میڈیکل سرٹیفکیٹ ایم بی بی ایس، ہومیوپیتھک اور انڈین سسٹم آف میڈیسن سے وابستہ کسی بھی ڈاکٹر کی جانب سے جاری کیا جا سکتا ہے۔ اسی انڈین سسٹم آف میڈیسن میں ’سووا رِگپا‘ بھی شامل ہے۔
محکمہ صحت کے ایک افسر نے بتایا کہ سووا رِگپا بنیادی طور پر ہمالیائی خطے کا ایک قدیم روایتی طبی نظام ہے۔ بھارت کے لداخ، ہماچل پردیش، سکم اور اروناچل پردیش میں اس طبی طریقہ? علاج کا بڑے پیمانے پر استعمال ہوتا ہے۔ مغربی بنگال کے دارجلنگ میں بھی سووا رِگپا طریقہ? علاج طویل عرصے سے رائج ہے۔سووا رِگپا یا تبتی طب کا نظامِ علاج ’انڈین سسٹم آف میڈیسن‘ میں شامل ہے۔ مرکزی آیوش محکمہ کے تحت ’نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف سووا رِگپا‘ لداخ کے دارالحکومت لیہہ میں قائم ہے۔


