بنیادی ڈھانچہ ہی موجود نہیں، مرکزی فنڈ کی سہولت سے بنگال کے کئی اسکول محروم

بنیادی ڈھانچہ ہی موجود نہیں، مرکزی فنڈ کی سہولت سے بنگال کے کئی اسکول محروم

بنیادی ڈھانچہ تیار نہ ہونے کی وجہ سے ریاست کے کئی اسکول مرکزی حکومت کے منصوبے میں حصہ ہی نہیں لے پا رہے ہیں۔ شہر کے اسکولوں میں درخت لگانے کے لیے جگہ نہیں ہے۔ پانی محفوظ کرنے کا انتظام بھی نہیں ہے۔ جبکہ دیہی علاقوں کے اسکولوں میں سولر پینل موجود نہیں ہیں۔ نتیجتاً اہلیت کے معیار پر پورا اترنے میں ناکامی ہو رہی ہے اور منصوبے کے تحت ملنے والی مالی امداد سمیت دیگر سہولیات سے بھی اسکول محروم رہ رہے ہیں۔
آج، بدھ کو ہی مرکزی حکومت کے مذکورہ منصوبے میں شمولیت کے لیے آن لائن نام بھیجنے کی آخری تاریخ ہے۔ محکمہ کے افسران افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ مرکز نے جب ’سوچھ اور ہری اسکول‘ کا اعزاز دینے کے لیے اسکولوں کے نام مانگے ہیں تو اہلیت کے معیار کے مطابق تمام مراحل مکمل کرنے کی صورت حال انتہائی خراب ہے۔ نئی حکومت کے چار ماہ کے عرصے میں بنیادی ڈھانچہ تیار کرنا مشکل تھا۔ اسی لیے اگلے سال کے لیے ابھی سے اسکولوں کو نئے سرے سے بہتر بنانے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔
تقریباً دو ماہ قبل مرکز نے ایک خط کے ذریعے بتایا تھا کہ 2025-26 کے تعلیمی سال میں ’سوچھ اور ہری اسکول ریکگنیشن‘ یعنی ایس ایچ وی آر منصوبے میں ریاست کا ایک بھی اسکول شامل نہیں ہوا۔ ملک بھر سے 10 لاکھ 47 ہزار 859 اسکولوں نے اس منصوبے میں حصہ لیا، لیکن مغربی بنگال کا ایک بھی اسکول شامل نہیں تھا۔ اس کے بعد فوری طور پر وکاس بھون سے ڈی آئیز کو خط بھیجے گئے۔ ذرائع کے مطابق اہلیت کے معیار پر پورا نہ اترنے کی وجہ سے 6 ڈی آئیز کو وجہ بتاو¿ نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔ خط میں کہا گیا ہے کہ قومی معیار کی بنیاد پر اسکولوں کی جانچ کی جائے گی۔ اس میں زیادہ سے زیادہ پانچ اسٹار تک ریٹنگ دی جائے گی۔

Back to top button
Translate »