کشمیر سے 150 بنگلہ دیشی شہریوں کو ملک بدر کیا گیا، وطن واپسی کے لیے بنگال لایا گیا

کشمیر سے 150 بنگلہ دیشی شہریوں کو ملک بدر کیا گیا، وطن واپسی کے لیے بنگال لایا گیا

جموں و کشمیر کے حکام نے پیر کے روز کشمیر میں غیر قانونی طور پر مقیم 150 مبینہ بنگلہ دیشی شہریوں کو بھارتی فضائیہ کے ایک خصوصی طیارے کے ذریعے بنگال کے باگڈوگرا ہوائی اڈے پہنچایا، جہاں انہیں وطن واپسی کے لیے بی ایس ایف کے حوالے کر دیا گیا۔
حکام کے مطابق، ان افراد کو الگ الگ واقعات میں حراست میں لیا گیا تھا۔ بتایا گیا ہے کہ کافی عرصے بعد پہلی مرتبہ حکام نے بنگلہ دیشی شہریوں کے خلاف اس طرح کی کارروائی شروع کی ہے۔ ایک عہدیدار نے بتایا کہ بنگلہ دیشی شہریوں کی ایک اور کھیپ کو 7 اکتوبر کو ملک بدر کیے جانے کا امکان ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق، ان میں سے کئی افراد کو مختلف مقامات پر چھاپہ مار کارروائیوں کے دوران پکڑا گیا۔ ایک عہدیدار نے کہا، ”ان میں سے بہت سے لوگ تعمیراتی کام سمیت معمولی نوعیت کے کاموں سے وابستہ تھے۔ یہ کارروائی مرکزی ایجنسیوں کے ساتھ مل کر کی جا رہی ہے۔“
حکومت نے حال ہی میں جموں خطے میں روہنگیا برادری کے خلاف بھی مہم شروع کی تھی۔ اس دوران سینکڑوں خاندانوں سے رضاکارانہ طور پر اپنی جھونپڑیاں منہدم کرنے کو کہا گیا، تاکہ انہیں مرکز کے زیر انتظام علاقے سے باہر جانے پر مجبور کیا جا سکے۔
روہنگیا اور بنگلہ دیشی شہریوں کے خلاف یہ کارروائی جموں و کشمیر میں شروع کی گئی ایک وسیع تر کریک ڈاو¿ن مہم کا حصہ معلوم ہوتی ہے۔ یہ کارروائی اس وقت شروع ہوئی جب مرکز کی جانب سے تشکیل دی گئی چار رکنی کمیٹی نے اگست میں جموں کا دورہ کیا تھا۔ اس کمیٹی کو سرحدی ریاستوں میں آبادیاتی تبدیلیوں کا جائزہ لینے کی ذمہ داری دی گئی تھی۔
مرکز کی بی جے پی کی زیر قیادت حکومت نے مئی میں ریٹائرڈ جسٹس پربھاکر ناولیکر کی سربراہی میں ایک اعلیٰ سطحی پینل تشکیل دیا تھا، جس کا مقصد ملک میں آبادیاتی تبدیلیوں کا مطالعہ کرنا تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ تبدیلیاں مبینہ غیر قانونی تارکین وطن کی آمد کی وجہ سے ہوئی ہیں۔
عہدیدار نے کہا، ”جن لوگوں کو ملک بدر کیا گیا، ان کی شناخت پوری وادی میں کیے گئے ایک سروے کے دوران ہوئی تھی۔ دیگر افراد کو بھی یہاں سے نکال کر واپس بھیجا جائے گا۔“

Back to top button
Translate »