آئی پیک کے سربراہ پرتک جین کے گھر پر ای ڈی کے چھاپے

آئی پیک کے سربراہ پرتک جین کے گھر پر ای ڈی کے چھاپے

کولکاتا12جنوری :آئی پیک (I-PAC) کے سربراہ پرتیک جین کے گھر اور دفتر پر ای ڈی کے چھاپے (ED Raid at I-PAC) میں کون سے اہلکار شامل تھے؟ کولکتہ پولیس ان کی شناخت کا عمل جاری رکھے ہوئے ہے۔ عمارت کے سکیورٹی رجسٹر کی بھی جانچ کی جا رہی ہے، لیکن کولکتہ پولیس کے ذرائع کے مطابق، اس رجسٹر میں کسی بھی ای ڈی افسر کا نام درج نہیں ہے۔ تفتیش کاروں کو معلوم ہوا ہے کہ مرکزی ایجنسی کے اہلکار رہائشی عمارت کے سکیورٹی گارڈز کو مبینہ طور پر دھکا دے کر پرتیک جین کے گھر میں داخل ہوئے تھے۔ صرف یہی نہیں، بلکہ یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ سکیورٹی گارڈز کے موبائل فون بھی چھین لیے گئے تھے۔
دوسری طرف، واقعے کے دن کی تفصیلی معلومات حاصل کرنے کے لیے کولکتہ پولیس نے سنیچر کی صبح عمارت کے سی سی ٹی وی فوٹیج اور ڈی وی آر (DVR) قبضے میں لے لیے۔ عمارت کا سکیورٹی رجسٹر بھی ضبط کر لیا گیا ہے۔ پرتیک جین کے گھر کی ملازمہ اور سکیورٹی پر مامور عملے کے بیانات بھی قلمبند کیے گئے ہیں۔ تفتیش کاروں کو پتہ چلا ہے کہ چھاپے کے دن صبح ای ڈی حکام ایک طرح سے زبردستی عمارت میں ‘داخل’ ہوئے تھے۔ سکیورٹی رجسٹر میں ان کا کوئی دستخط نہیں ہے۔ یہاں تک کہ تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ای ڈی حکام نے سکیورٹی گارڈز کے موبائل فون چھین لیے تھے، اور پوچھ گچھ کے دوران گارڈز نے بتایا کہ امن و امان (law and order) کا حوالہ دے کر ان کے فون لیے گئے تھے۔
جمعرات کی صبح اچانک آئی پیک سربراہ پرتیک جین کی لاو¿ڈن اسٹریٹ والی رہائش گاہ پر ای ڈی حکام نے چھاپہ مارا تھا۔ اطلاع ملتے ہی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی وہاں پہنچ گئیں۔ ترنمول سپریمو کے الزامات کے مطابق، لاو¿ڈن اسٹریٹ کی اس پرتعیش عمارت یعنی پرتیک جین کے گھر اور سیکٹر فائیو میں آئی پیک کے دفتر میں ترنمول کانگریس کے انتخابات سے متعلق پارٹی دستاویزات اور الیکٹرانک ڈیٹا موجود تھا (ED Raid at I-PAC)۔ انہوں نے الزام لگایا کہ یہ دستاویزات چوری کیے گئے ہیں۔ اس کے بعد وزیر اعلیٰ نے شیکسپیئر سرانی تھانے اور ودھان نگر الیکٹرانک کمپلیکس تھانے میں ای ڈی کے خلاف دستاویزات کی چوری کی شکایت درج کرائی، جس پر کولکتہ پولیس اب تیزی سے کارروائی کر رہی ہے۔
علاوہ ازیں، کولکتہ پولیس عمارت کے دیگر رہائشیوں اور پرتیک جین کے پڑوسیوں کے بیانات بھی ریکارڈ کرنا چاہتی ہے۔ تفتیش کار اس بات کی معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں کہ چھاپے کے وقت انہوں نے کیا دیکھا تھا۔ خبر ہے کہ اس سلسلے میں کئی لوگوں کو نوٹس بھی بھیجے گئے ہیں۔ دوسری طرف، مرکزی تفتیشی ایجنسی (ED) نے تحقیقات میں رکاوٹ ڈالنے کے الزام میں سپریم کورٹ میں دو مقدمات دائر کر دیے ہیں۔ ان مقدمات میں ریاستی پولیس کے ڈی جی راجیو کمار، کولکتہ پولیس کمشنر منوج ورما، ڈی سی پریہ برت رائے کے علاوہ وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کو بھی فریق بنایا گیا ہے۔ ایک اور مرکزی ایجنسی سی بی آئی (CBI) کو بھی اس میں پارٹی بنایا گیا ہے۔

Back to top button
Translate »