آئی پیک معاملے میں سپریم کورٹ میں سماعت مکمل ، فیصلہ محفوظ

آئی پیک معاملے میں سپریم کورٹ میں سماعت مکمل ، فیصلہ محفوظ

آئی پیک معاملے میں سپریم کورٹ میں سماعت مکمل ہوگئی ہے۔ تاہم، جمعرات کو جسٹس پرشانت مشرا اور جسٹس این وی انجریا کی بنچ نے فیصلہ سنانے کو ملتوی کردیا۔ آئی پیک کے دفتر اور اس کے سربراہ کی رہائش گاہ پر تلاشی کے دوران رکاوٹ ڈالنے کے الزام میں مرکزی تفتیشی ایجنسی انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے گزشتہ جنوری میں اس وقت کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کے خلاف سی بی آئی تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ ریاست میں اقتدار کی تبدیلی کے بعد بھی گزشتہ اگست میں ہونے والی سماعت کے دوران جسٹس مشرا اور جسٹس انجریا کی بنچ نے پوچھا تھا کہ کیا ریاست کو اپنی پسند کی تفتیشی ایجنسی منتخب کرنے کا اختیار دیا جاسکتا ہے؟ ای ڈی کے وکیل اور ایڈیشنل سالیسٹر جنرل سوریہ پرکاش وی راجو نے اس تجویز سے اتفاق نہیں کیا تھا۔ انہوں نے واضح کیا تھا کہ اقتدار کی تبدیلی کے باوجود انہیں ریاستی پولیس پر اعتماد نہیں ہے۔
اس وقت سماعت کے دوران ممتا بنرجی کی وکیل مینکا گرو سوامی نے کہا تھا، ”اب مغربی بنگال میں حکومت تبدیل ہوچکی ہے۔ اس لیے اگر موجودہ حکومت چاہے تو خود فیصلہ کرسکتی ہے کہ تحقیقات کون کرے گا۔ پولیس کے ذریعے تفتیش کرانے پر بھی اب کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔ اس معاملے میں سپریم کورٹ کی مداخلت کی ضرورت نہیں ہے۔“
واضح رہے کہ گزشتہ 8 جنوری کو غیر قانونی کوئلہ اسمگلنگ اور مالی بدعنوانی کے معاملے کی تحقیقات کے سلسلے میں ای ڈی نے کولکاتا کے دو مقامات پر چھاپے مارے تھے۔ ای ڈی کی ٹیم سالٹ لیک کے سیکٹر فائیو میں اس وقت کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کی حکومت اور ترنمول کانگریس کی مشاورتی ایجنسی آئی پیک کے دفتر پہنچی تھی۔ اس کے علاوہ لاو¿ڈن اسٹریٹ میں ایجنسی کے سربراہ پرتیک جین کی رہائش گاہ پر بھی تلاشی لی گئی تھی۔تلاشی کے دوران اس وقت کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی خود موقع پر پہنچ گئی تھیں۔ الزام ہے کہ وہ وہاں سے کئی دستاویزات نکال کر لے گئی تھیں۔اس واقعے کے بعد ای ڈی اور ترنمول کانگریس نے الگ الگ کلکتہ ہائی کورٹ میں مقدمات دائر کیے تھے۔ ای ڈی کا کہنا تھا کہ وزیر اعلیٰ نے اپنے آئینی اختیارات کا غلط استعمال کرتے ہوئے دستاویزات چھین کر لے گئی تھیں۔
دوسری جانب مرکزی حکومت کے خلاف دائر مقدمے میں ترنمول کانگریس کا کہنا تھا کہ انتخابات سے قبل ای ڈی کی کارروائی سیاسی مقاصد سے متاثر تھی۔ پارٹی نے الزام لگایا تھا کہ اس کی حساس دستاویزات اور انتخابی حکمت عملی چوری کرکے لے جائی گئی ہیں۔ای ڈی نے بتایا تھا کہ تلاشی کے دوران اس نے کوئی دستاویز ضبط نہیں کی تھی۔ درحقیقت، واقعے کے دن ہی ای ڈی نے کلکتہ ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔ لیکن 9 جنوری کو جسٹس شوبھرا گھوش نے اس درخواست کی سماعت 14 جولائی تک ملتوی کردی تھی۔ اس کے بعد ای ڈی نے اس واقعے کی سی بی آئی تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی تھی۔

Back to top button
Translate »