برلن اور پیرس نے ٹرمپ کے ٹیرف کے خلاف ہاتھ ملا لیے

برلن اور پیرس نے ٹرمپ کے ٹیرف کے خلاف ہاتھ ملا لیے

برلن اور پیرس نے ٹرمپ کے ٹیرف کے خلاف ہاتھ ملا لیے
برلن/پیرس20 جنوری : امریکی ٹیرف عائد ہونے پر برلن اور پیرس نے ٹرمپ کے ٹیرف کے خلاف مشترکہ حکمتِ عملی بنانے پر اتفاق کر لیا۔جرمن چانسلر فریڈرک مرز نے پیر کے روز کہا کہ برلن اور پیرس اس ہفتے برسلز میں یورپی یونین کے 27 رہنماو¿ں کے اجلاس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تازہ ٹیرف دھمکیوں کو ناکام بنانے کے لیے ایک مشترکہ حکمتِ عملی پر مذاکرات کریں گے۔اتوار کے روز فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کے دفتر نے یورپی یونین سے مطالبہ کیا کہ وہ بلاک کے انسدادِ جبر ضابطے کو فعال کرے، جسے ”ٹریڈ بزوکا“ کا نام دیا گیا ہے۔ تاہم، فرانس کے مقابلے میں امریکا کے ساتھ تجارت پر زیادہ انحصار کرنے والا جرمنی واشنگٹن کے خلاف سخت جوابی اقدام کرنے میں زیادہ ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کرتا رہا ہے۔
پولیٹیکو یورپ کے مطابق فریڈرک مرز نے کہا ”ہمارے مقابلے میں فرانس امریکی ٹیرف سے کہیں زیادہ متاثر ہوا ہے، اور اس حوالے سے میں سمجھتا ہوں کہ فرانسیسی حکومت اور فرانسیسی صدر ہمارے مقابلے میں کچھ زیادہ سخت ردِعمل دینا چاہتے ہیں۔“ انھوں نے مزید کہا ”اس کے باوجود ہم ایک مشترکہ مو¿قف اختیار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور یورپی کونسل میں جانے سے پہلے ہم اس میں کامیاب ہو جائیں گے۔“مرز نے زور دیا کہ وہ صورت حال کو کشیدگی سے بچانے کے خواہاں ہیں، اور اسی سلسلے میں بدھ کے روز ڈیوس میں صدر ٹرمپ سے ملاقات کے خواہاں ہیں۔ تاہم انھوں نے یہ بھی کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو یورپی یونین جوابی کارروائی کے لیے تیار ہوگی اور تمام آپشنز کھلے رکھے جائیں گے۔ادھر جرمن حکومت کے ترجمان نے کہا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی ٹیرف سے متعلق دھمکیاں ناقابلِ قبول ہیں۔ فرانسیی صدر نے یورپی یونین سے مطالبہ کیا کہ اگر ٹرمپ اضافی محصولات عائد کرنے کی دھمکی پر عمل کریں تو یورپی یونین بھی امریکا کے خلاف جوابی کارروائی کرے۔ ترجمان یورپی کمیشن نے کہا کہ امریکا کی ٹیرف دھمکی پر مشاورت جاری ہے، یورپی یونین کے تحفظ کے لیے ہر ضروری قدم اٹھائیں گے۔
Back to top button
Translate »