بس اور منی بس کے کرائے میں اضافے کی مانگ
بس اور منی بس کے کرائے میں اضافے کی مانگ

مغربی بنگال اسمبلی انتخابات سے قبل بس اور منی بس کے کرایوں میں اضافے اور ملازمین کے ٹفن الاو¿نس بڑھانے کے مطالبے کے ساتھ ‘ویسٹ بنگال بس اینڈ منی بس اونرز ایسوسی ایشن’ نے چیف الیکٹورل آفیسر (سی ای او) کے دفتر میں دوبارہ درخواست دی ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ اس سے قبل 29 جنوری کو اس سلسلے میں ایک خط بھیجا گیا تھا، لیکن ابھی تک کوئی جواب نہیں ملا۔ انتخابات قریب آنے کی وجہ سے سی ای او کو دوبارہ خط لکھا گیا ہے۔تنظیم کا دعویٰ ہے کہ 2024 کے لیے مقررہ ‘ہائرنگ چارجز’ موجودہ مارکیٹ ریٹ کے مطابق نہیں ہیں۔ تجویز کے مطابق، ایندھن کے علاوہ بس کا کرایہ 2,090 روپے سے بڑھا کر 2,800 روپے کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے، اور منی بسوں کے لیے بھی اسی تناسب سے اضافے کی درخواست کی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی ہر ملازم کے لیے 300 روپے ٹفن الاو¿نس اور نائٹ ہالٹ کے لیے 500 روپے مقرر کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔ تنظیم کا مزید کہنا ہے کہ ایندھن، دیکھ بھال اور مزدوری کے اخراجات میں اضافے کی وجہ سے پرانے نرخوں پر خدمات فراہم کرنا مشکل ہو رہا ہے۔
خط میں یہ بھی ذکر کیا گیا ہے کہ انتخابی ٹرانسپورٹ سروس کو ہموار رکھنے کے لیے اگر پولنگ کم از کم 6 سے 8 مراحل میں منعقد کی جائے تو گاڑیوں کا انتظام آسان ہو جائے گا۔ تنظیم کا دعویٰ ہے کہ اس سے انتظامیہ کے ساتھ ساتھ ٹرانسپورٹ مالکان کو بھی منصوبہ بندی میں سہولت ہوگی۔تنظیم کے مکتوب کی کاپی، جس پر سکریٹری پردیپ نارائن باسو کے دستخط ہیں، ریاست کے ٹرانسپورٹ سکریٹری سومتر موہن کو بھی بھیجی گئی ہے اور اس معاملے میں محکمہ ٹرانسپورٹ کی مداخلت کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ انتخابات سے عین قبل بس مالکان کے ان مالی مطالبات پر الیکشن ڈپارٹمنٹ کیا فیصلہ کرتا ہے۔ چونکہ انتخابات کے دوران ٹرانسپورٹ ہی انتظامیہ کا بنیادی سہارا ہوتی ہے، اس لیے ماہرین کا خیال ہے کہ اس معاملے کو سنجیدگی سے لیا جائے گا۔

