بنگال کی سیاست اور مذہبی نعرے

بنگال کی سیاست اور مذہبی نعرے

 

امجدصدیقی
معہدالرشادکولکاتا

ملک کے وزیر اعظم صاحب کلکتہ کے تاریخی میدان بریگیڈ تشریف لائے، اجلاس سےقبل پورے بنگال میں صرف مودی جی کی ہی تصایر آیزاں تھیں۔
چسپاں کئے گئے بینرزکی حتمی تعدادتو پارٹی کے اعلی عہدے داران ہی بتا سکتے ہیں البتہ میرے اندازے کے مطابق شہر کلکتہ میں کچھ دنوں سےصرف مودی جی ہی نظر آرہے تھے ۔

بقول اظہر فراغ صاحب
دیواریں چھوٹی ہوتی تھیں لیکن پردہ ہوتا تھا
تالے کی ایجاد سے پہلے صرف بھروسہ ہوتا تھا ۔

یہ شعرمودی جی کی آمد سےقبل کلکتہ شہر پر فٹ بیٹھ رہا تھا ۔یا پھر ورود شعر کی کہانی کچھ اسی طرح ہوسکتی ہے ۔
دیواریں چھوٹی ہوسکتی ہیں مگرمودی جی کےتصویری بینرزکا سائز چھوٹا نہیں تھا ۔
بینرز میں مودی جی کا سینہ 60 سے 65 اینچ کا تھا ، اسے 56 اینچ کہنے والے کے رخسار پہ زور دار طمانچہ بھی کہ سکتے ہیں !
قابل غور بات یہ تھی کہ مودی جی کا لباس بھگوا رنگ کا تھا۔
یہاں تک تو ٹھیک ہے!مگر بینرز سے لے کر اسٹیج تک صرف مودی جی ہی کیوں تھے ؟
کیا وزارت عظمی کا منصب چھوڑ کر وزارت اعلی پر براجمان ہونے آئے ؟
نہیں ! بلکہ اپنے دم پر بنگال جیتنے آئے تھے !
اہل بنگال کو یہ پوئنٹس سمجھنے ہوں گے کہ مودی جی نے اپنے اثر ورسوخ اورشہرت کے دم پہ بھیڑ تو جمع کر لی۔مگراس سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ مغربی بنگال میں بی جے پی کے پاس کوئی ایسا لیڈرنہیں ہےجن کی تصویر بینرزپہ اور چہرہ اسٹیج پہ دکھایاجائے ۔
مودی جی اپنی شہرت کے دم پہ انتخاب جیتنا چاہتے ہیں اور جیت کے بعد کسی ایسے نا اہل کو کرسی وزارت دیں گےجن کے چہرے انتخاب سےقبل لائق اشاعت اور قابل دید نہ تھے۔
جیت وشکست سے یاد آیا کہ مودی جی نے خطاب میں کہا تھا کہ بنگال کیا چاہتا ہے؟ آج کے بریگیڈ میدان نے بتا دیا ۔
مودی جی کو شاید معلوم نہ ہو کہ اتنی بھیڑ تو ہماری جمیعت والے بھی جمع کر لیتے ہیں حالانکہ وہ بھی دو حصے میں منقسم ہے۔ایک جمعیت کے ابھی تک صرف وزیر بن پائے ہیں اور آپ اتنی سی بھیڑ میں وزارت عظمی کا خواب دیکھ رہے ہیں ؟!
میں نہ تو ممتا سرکار کا حامی ہوں اور نا مخالف، البتہ اتنا کہ سکتا ہوں کہ ممتا بنرجی مذاہب کی سیاست نہیں کرتیں ۔
مذہب کے نام پہ جمہوری انتخاب کا رزلٹ گیس سیلنڈر کی طرح ہوتا ہے،
ہندوستانی سیاست کا وحشت ناک پہلو یہ ہے کہ پارٹی یا پارٹی کے اعلیٰ عہدے داران کا صرف ہندو ہونا کافی نہیں ہے بلکہ مسلم دشمنی نظریہ ہونا بھی ضروری ہے ۔غور کریں کہ ممتا بنرجی ہندو ہیں، دو چارکوچھوڑکرتمام تر وزراءبھی ہندو ہیں، تیجسوی یادو ہندو،اکھلیش اورراہل بھی ہندو ہیں ۔کانگریس ، ایس پی ، راجد ،ترنمول کے مرکزی لیڈران بھی ہندو،مگر ان کی مخالفت صرف اس وجہ سے کی جارہی ہے کیوں کہ یہ سب مذہبی ہم آہنگی پر اعتماد اورغیر مذہبی سیاست پر یقین رکھتے ہیں !
بقول میرے کہ سیاست کا تعلق عوامی سہولیات اور فلاحی اسکیمس سے ہونا چاہئے ، مثلا سڑک ، پانی ، بجلی ،صحت ،تعلیم ، ملازمت اور آلودگی سے پاک ماحول !
مذکوہ تمام چیزیں انسانی زندگی کی لوازمات میں سے ہیں، جس میں کسی بھی مذہب کی تفریق نہیں ہے ۔
اگر انتخابات ان بنیادی ترجیحات کے زیر سایہ منعقد ہوں تو نہ ہی بی جے پی نظر آتی اور نہ مجلس ۔!
بنگال میں رام مندر اور بابری مسجد والے دونوں ہیں، ایک کی شہرت مندر سے ہے تو دوسرے کی مسجد سے۔
در اصل بھارت کے ہندوؤں نے ہندوستانی سیاست کو مذہبی رنگ میں مکمل طور پہ رنگ دیا ہے، اب اسے خالص انسانی ترجیحات تک آتے آتے کئی سال لگ سکتے ہیں، بلکہ یہ بھی ممکن ہے کہ اب انسانی ترجیحات کی جگہ مذہبی ترجیحات پر انتخابات لڑے جائیں !
اگر مجھے بی جے پی کی فرقہ ورانہ سرگرمیوں اورخالص انتہاء پسندانہ نظریات کی وجہ سے بنگال کی پر امن فضاء کے مکدر ہونے کا خوف نہ ہوتا تو میرا نظریہ کچھ اس طرح ہوتا کہ اگر ہندو بی جے پی کو صرف ہندو اور مسلم مخالف ہونے کی وجہ سے ووٹ دے رہے ہیں تو مسلمان بھی ایم آئی ایم یا اس جیسی مسلم موافق پارٹی کو ووٹ دیں۔اگر نہیں تو پھر مذہبی سیاست بند ہونی چاہئے ۔
پہلے ہندو عوام بی جے پی کو ووٹ دینا بند کریں پھر ہم مسلمان مسلم پارٹیوں کو بند کریں گے، کیوں کہ بی جے پی کو اقتدارتک پہلے ہندوؤں نے پہونچایا ہے بعد میں اویسی صاحب کی سیاسی دکان چمکنے لگی ہے۔
حالانکہ اس وقت بنگال کی فضا اس طرح کے سیاسی نظریہ کو قبول کرنے کا متحمل نہیں ہے۔
ترنمول کانگریس مجموعی طور پر مذہبی رواداری میں بہت حد تک معتدل اور متوازن رہی ہے اور بنگال کو اس وقت اسی روادارانہ ماحول کی ضرورت ہے !
جہاں تک بانئ بابری مسجد کا تعلق ہے، تو وہ نہ سیاست سمجھتے ہیں اور نہ سیاست سمجھنا چاہتے ہیں !
انہیں پیسے کمانے ہیں، حالانکہ وہ زمین اور رئیل اسٹیٹ کی تجارت بھی کر سکتے تھے لیکن انہیں جلد اورتوقع سے زیادہ منافع چاہئے تھا، سو وہ مل گیا، ساتھ میں بلا معاوضہ شہرت بھی مل گئی ۔
بانئ بابری مسجد کی سیاسی حرکات وسکنات سے تو مجھے کسی قدر حیرانی نہ تھی البتہ چند صاحب جبہ و دستار کی مشکوک ترین اکٹیوٹیز مجھے حیران کرگئیں ۔
علماء سے عوام مربوط ہوتے ہیں اور عوام سے سیاست، جہاں عوام جمع ہوجائیں وہاں سیاست کی بنیاد پڑ جاتی ہے!
یہاں تک تو میرے اعصاب ٹھیک تھے مگر یہ کیا کہ 180 سیٹوں پر امیدوار اتارے جائیں۔
اس کا صاف مطلب ہے کہ بانئ مسجدکو اہل مندر بھی ووٹ کریں گے۔بس سمجھ جائیے کہ یہاں اہل مسجد ومندر اور اہل کلیسا سب ایک ہیں، اگر یہی مذہبی ہم آہنگی مقصود ہے تو ڈرامے کی کیا ضرورت ہے؟سارے لوگ ٹی ایم سی کے زیر سایہ آجائیں ۔میں تو کہتا ہوں کہ اویسی اور بانئ مسجد کے ساتھ شوبھیندو جی بھی ٹی ایم سی کو ووٹ کریں تاکہ دور اورتسلسل لازم نہ آئے!

Back to top button
Translate »