ماہانہ 5000 روپے الاونس پانے والی میناکشی کی تعلیمی قابلیت جانتے ہیں؟
ماہانہ 5000 روپے الاونس پانے والی میناکشی کی تعلیمی قابلیت جانتے ہیں؟

کولکتہ23دسمبر: ان کے عوامی لہجے میں انتظامیہ پر سخت تنقید کو بہت سے لوگ پسند کرتے ہیں۔ جلوس کے سامنے ہوں یا اسٹیج پر، میناکشی مکھرجی اپنی علاقائی زبان اور سادہ لہجے میں بہت سی مشکل باتیں کہہ جاتی ہیں۔ بردوان کے ایک چھوٹے سے قصبے کی لڑکی آج ریاستی سطح کی لیڈر بن چکی ہے۔ انہوں نے خود ترنمول سپریمو ممتا بنرجی کے خلاف انتخاب لڑنے کی ہمت دکھائی تھی۔ 2021 کے انتخابات میں میناکشی کے ایک اور مدمقابل شوبھیندو ادھیکاری بھی تھے۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ ‘فل ٹائم’ سیاست کرنے والی میناکشی کی تعلیمی قابلیت کیا ہے؟
میناکشی مغربی بردوان کے علاقے کلٹی (Kulti) کی رہنے والی ہیں۔ ان کی ابتدائی تعلیم وہیں ہوئی۔ ان کے والدین دونوں سی پی آئی ایم (CPIM) کے ممبر تھے اور فعال سیاست سے وابستہ تھے، جس کی وجہ سے بائیں بازو کی سیاست کی طرف ان کا لگاو¿ قدرتی تھا۔ کالج کے زمانے سے ہی میناکشی سیاست میں سرگرم ہو گئی تھیں۔
بائیں بازو کی نوجوانوں کی تنظیم ڈی وائی ایف آئی (DYFI) کے ذریعے سیاسی حلقوں میں میناکشی کی پہچان بنی۔ 2008 میں ممبر بننے کے صرف 10 سال بعد ہی وہ ڈی وائی ایف آئی کی ریاستی صدر بن گئیں۔ بعد میں انہوں نے نوجوانوں کی تنظیم چھوڑی اور فی الوقت وہ سی پی آئی ایم کی مرکزی کمیٹی کی رکن ہونے کے ساتھ ساتھ ریاستی سکریٹریٹ کی بھی ممبر ہیں۔
تعلیمی قابلیت کے حوالے سے بات کریں تو میناکشی نے سن 2000 میں ‘جلدھی کماری گرلز ہائی اسکول’ سے ثانوی (Madhyamik) اور 2002 میں اعلیٰ ثانوی (Higher Secondary) کا امتحان مغربی بنگال بورڈ سے پاس کیا۔ اس کے بعد انہوں نے اسنسول کے بی بی کالج (BB College) سے پولیٹیکل سائنس میں داخلہ لیا اور 2005 میں گریجویشن مکمل کیا۔ میناکشی نے بردوان یونیورسٹی سے پولیٹیکل سائنس میں ہی ایم اے (Postgraduate) کیا اور 2010 میں بی ایڈ (B.Ed) کی ڈگری حاصل کی۔
سیاست کے علاوہ 42 سالہ میناکشی کسی اور پیشے سے وابستہ نہیں ہیں۔ 2021 کے اسمبلی انتخابات سے قبل جمع کرائے گئے حلف نامے کے مطابق، میناکشی کو پارٹی کی طرف سے ماہانہ 5000 روپے الاو¿نس ملتا ہے اور اس کے علاوہ ان کی آمدنی کا کوئی دوسرا ذریعہ نہیں ہے۔


