ایپسٹین فائلیں اور احتساب کا سوال 

ایپسٹین فائلیں اور احتساب کا سوال 

تحریر فہیم اختر
جرم کی فطرت یہی ہے کہ وہ چھپ کر بھی اپنے نشانات چھوڑ جاتا ہے۔ دولت، طاقت اور اثر و رسوخ وقتی طور پر انصاف کے راستے میں رکاوٹ بن سکتے ہیں، مگر وہ سچ کو ہمیشہ کے لیے دفن نہیں کر سکتے۔ تاریخ بار بار یہ ثابت کرتی ہے کہ جرم چاہے کتنے ہی مضبوط حصار میں کیوں نہ چھپایا جائے، وقت کے ساتھ وہ منظرِ عام پر آ ہی جاتا ہے۔ اصل المیہ یہ نہیں کہ طاقتور لوگ جرم کرتے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ ادارے انہیں بچانے میں خاموش شریک بن جاتے ہیں۔ اور جب احتساب مو¿خر ہوتا ہے، تو قیمت ہمیشہ کمزور اور بے آواز لوگ ادا کرتے ہیں۔امریکی محکمہ انصاف کی جانب سے جیفری ایپسٹین سے متعلق لاکھوں صفحات پر مشتمل فائلوں کی حالیہ رہائی نے ایک بار پھر نہ صرف اس کے گھناو¿نے جرائم کو بے نقاب کیا ہے، بلکہ اس سے بھی زیادہ سنگین سوال کو جنم دیا ہے: سوال یہ ہے کہ کیا اسے بہت پہلے روکا جا سکتا تھا؟
دستاویزات سے واضح ہوتا ہے کہ وفاقی حکام کو ایپسٹین کے خلاف الزامات کا علم برسوں پہلے ہو چکا تھا۔یہاں تک کہ 1996 میں بھی، جب پہلی بار ایک متاثرہ خاتون نے باضابطہ طور پر اطلاع دی۔ اس کے باوجود، وہ نظام جس کا کام کمزوروں کا تحفظ تھا، بار بار ناکام ثابت ہوا۔نئے انکشافات یہ ظاہر کرتے ہیں کہ 2008 میں ایپسٹین کے متنازعہ پلی بارگین اور 2019 میں اس کی وفاقی گرفتاری کے درمیان ایک طویل عرصہ ایسا تھا جب حکام کے پاس مداخلت کے ٹھوس مواقع موجود تھے۔ خاص طور پر 2011 میں آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں امریکی قونصل خانے میں ہونے والا ایک ایف بی آئی انٹرویو اس سوال کو اور گہرا کر دیتا ہے۔اس انٹرویو میں ایک خاتون،جس کا نام خفیہ رکھا گیا،نے ایپسٹین اور اس کی ساتھی گھسلین میکسویل کے ہاتھوں ہونے والی جنسی زیادتی اور اسمگلنگ کی تفصیلی داستان بیان کی۔ اس انٹرویو میں ایک وفاقی پراسیکیوٹر بھی فون پر شامل تھا۔ خاتون کے بیانات بعد ازاں ورجینیا گیوفری کے عوامی اور قانونی الزامات سے حیران کن حد تک مماثلت رکھتے ہیں۔دستاویزات سے یہ بھی پتا چلتا ہے کہ ایپسٹین اور اس کے وکلا کی جانب سے متاثرین کو خاموش کرانے کی کوششیں کی گئیں، حتیٰ کہ بالواسطہ دھمکیاں بھی دی گئیں۔ اس کے باوجود، کوئی بامعنی قانونی کارروائی سامنے نہیں آئی۔یہ پہلا موقع نہیں تھا۔ 1996 میں فنکار ماریا فارمر نے ایف بی آئی کو رپورٹ دی تھی کہ ایپسٹین نے اس کی کم عمر بہن کی عریاں تصاویر چرائیں اور فروخت کرنے کی کوشش کی، اور اسے سنگین نتائج کی دھمکی دی۔ رپورٹ درج ہوئی، مگر اس کے بعد بھی ایپسٹین آزاد رہا۔ تاہم ایپسٹین نے فلوریڈا میں معمولی ریاستی الزامات پر مختصر سزا کاٹی، مگر اسی دوران مزید متاثرین سامنے آتے رہے۔ یہاں تک کہ اس کے دن کے وقت جیل سے نکلنے کی اجازت کے دوران بھی بدسلوکی کے الزامات سامنے آئے۔
ورجن آئی لینڈز کی جانب سے 2020 میں دائر کیے گئے مقدمے کے مطابق، 2011 سے 2019 تک ایپسٹین کم عمر لڑکیوں اور نوجوان خواتین کو اپنے نجی جزیرے پر لے جاتا رہا، جہاں انہیں دھوکے، جبر اور تشدد کے ذریعے جنسی غلامی پر مجبور کیا گیا۔ ہوائی اڈوں کے عملے نے 2018 تک اسے کم عمر لڑکیوں کے ساتھ سفر کرتے دیکھا۔ورجینیا گیوفری جو بعد میں خودکشی کے باعث جان سے گئیں، انہوں نے بارہا کہا کہ اگر بروقت کارروائی ہوتی تو کئی زندگیاں تباہ ہونے سے بچ سکتی تھیں۔ ان کی موت کے بعد یہ سوال اور بھی بھاری ہو جاتا ہے کہ قصور صرف مجرموں کا تھا، یا ان اداروں کا بھی جو سب کچھ جانتے ہوئے خاموش رہے؟
متعدد متاثرین کے وکیل اسپینسر کوون کے مطابق، مسئلہ شواہد کی کمی نہیں بلکہ ادارہ جاتی سستی ہے۔ متاثرین نے بولنے کی ہمت کی، مگر نظام نے ان کی بات سننے اور عمل کرنے میں ناکامی دکھائی۔ایف بی آئی اور محکمہ انصاف آج بھی یہ بتانے سے گریز کر رہے ہیں کہ 2011 کے انٹرویو کے بعد کیا اقدامات کیے گئے یا کیوں نہیں کیے گئے۔یہاں یہ بات اہم ہے کہ جب طاقتور افراد کو جوابدہ نہ ٹھہرایا جائے، تو جرم صرف دہرایا نہیں جاتا وہ اداروں کی خاموشی سے پروان چڑھتا ہے۔ اور اس خاموشی کی قیمت ہمیشہ متاثرین ادا کرتے ہیں۔جیفری ایپسٹین (20 جنوری 1953، بروکلین 10اگست 2019، مین ہٹن) ایک امریکی مالیاتی شخصیت تھا جو بعد ازاں خواتین اور کم عمر لڑکیوں کی سیریل جنسی اسمگلنگ کے جرم میں بدنام ہوا۔ دولت، رسوخ اور تعلقات کے امتزاج نے اسے ایک ایسا تحفظ فراہم کیے رکھا جو عام مجرموں کو میسر نہیں ہوتا۔ وفاقی جنسی اسمگلنگ کے مقدمے کا انتظار کرتے ہوئے اس کی جیل میں موت سے سرکاری طور پر خودکشی قرار دیا گیا جس نے نہ صرف شکوک کو جنم دیا بلکہ امریکی ریاستی نظام پر بھی سنگین سوالات اٹھا دیے۔ ایپسٹین کی موت کے بعد منظرِ عام پر آنے والی دستاویزات، جنہیں عمومی طور پر“ایپسٹین فائلیں ”کہا جاتا ہے، محض ایک فرد کی مجرمانہ تاریخ نہیں بلکہ طاقتور اداروں کی خاموشی اور غفلت کا ریکارڈ بھی ہیں۔ ان فائلوں میں کن ناموں کا ذکر ہے اور کس تناظر میں یہ بحث امریکی سیاست کے دونوں اطراف کو ہلا دینے کے لیے کافی ثابت ہوئی۔یہ بحث خاص طور پر اس وقت شدت اختیار کر گئی جب ڈونلڈ ٹرمپ کی دوسری صدارت کے دوران ان فائلوں کو عام کرنے کا مطالبہ ایک قومی نعرہ بن گیا۔ ہزاروں دستاویزات کی بالآخر رہائی نے ایپسٹین کے جرائم سے زیادہ اس کے تعلقات کو موضوعِ بحث بنا دیا۔وہ تعلقات جو دولت، سیاست اور سماجی طاقت کے مراکز تک پھیلے ہوئے تھے۔ایپسٹین کا پس منظر کسی اشرافیہ کی کہانی نہیں تھا۔ وہ یہودی تارکینِ وطن کے گھرانے میں پیدا ہوا، بروکلین کے متوسط طبقے کے علاقے سی گیٹ میں پلا بڑھا، اور غیر معمولی ذہانت کا حامل طالب علم سمجھا جاتا تھا۔ ریاضی میں مہارت، پیانو پر عبور، اور تعلیمی میدان میں تیز رفتاری—یہ سب اس کی ابتدائی شناخت کا حصہ تھے۔ مگر یہ ذہانت اور خود اعتمادی جلد ہی اخلاقی سرحدوں سے آزاد ہوتی چلی گئی۔ڈگری مکمل کیے بغیر نیویارک کے بااثر ڈیلٹن اسکول میں تدریس، پھر وال اسٹریٹ کی طاقتور فرم بیئر اسٹرنز تک رسائی،ایپسٹین کا عروج غیر معمولی تھا، مگر اس کے ساتھ ساتھ انتباہی نشانیاں بھی موجود تھیں۔ تعلیم کے بارے میں مبینہ جھوٹ، مالی بے ضابطگیاں، اور نامناسب رویہ سب کچھ ریکارڈ پر تھا، مگر نتیجہ ہمیشہ نرم روی کی صورت میں نکلا۔وقت گزرنے کے ساتھ ایپسٹین کے تعلقات امریکی اقتدار کے اعلیٰ ترین ایوانوں تک جا پہنچے۔ اس کے روابط میں سابق صدر بل کلنٹن اور بعد ازاں ٹرمپ جیسے نام شامل رہے، جبکہ اس کی قریبی ساتھی گھسلین میکسویل کم عمر لڑکیوں کو اس کے گرد گھومتے شکاری نظام میں پھنسانے کا کردار ادا کرتی رہی۔
Back to top button
Translate »