لیڈران وجود اور پارٹی کے تحفظ میںلگے ہوئے ہیں،گورکھا رہنما ناراض

لیڈران وجود اور پارٹی کے تحفظ میںلگے ہوئے ہیں،گورکھا رہنما ناراض

لیڈران وجود اور پارٹی کے تحفظ میںلگے ہوئے ہیں،گورکھا رہنما ناراض

کالیم پونگ سے پیشوک، لاماہاٹا، تاکدہ اور جوڑ بنگلو ہوتے ہوئے جب آپ دارجلنگ کے داخلی راستے پر واقع گھوم (Ghoom) کی بستی میں داخل ہوتے ہیں، تو وہاں کا سیاسی منظرنامہ بدلتا ہوا نظر آتا ہے۔ اس بار پہاڑی عوام اور مقامی کارکنوں میں روایتی سیاسی رہنماو¿ں کے تئیں گہری ناراضگی پائی جا رہی ہے۔رپورٹ کے مطابق، دارجلنگ کے بڑے پہاڑی رہنما (جیسے انیت تھاپا یا بمل گرونگ کے دھڑے) اس وقت عوام کے بنیادی مسائل کے بجائے اپنی سیاسی بقا (Survival) اور پارٹی کے وجود کو بچانے کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ اسی وجہ سے مقامی سطح کے نچلے طبقے کے کارکن اور عوام خود کو نظر انداز محسوس کر رہے ہیں۔ راجو اور شیووین جیسے مقامی کارکنان اور سماجی طور پر بااثر افراد کا گروہ، جو کبھی ان جماعتوں کی ریڑھ کی ہڈی ہوا کرتا تھا، اب سخت برہم ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ پہاڑی مسائل (جیسے گورکھا لینڈ یا مستقل سیاسی حل) کو پسِ پشت ڈال کر صرف اقتدار کی رسہ کشی کی جا رہی ہے۔گھوم اور اس کے آس پاس کے دیہی علاقوں کے لوگوں کا کہنا ہے کہ ہر الیکشن میں ان سے وعدے کیے جاتے ہیں، لیکن انتخابات کے بعد رہنما صرف کولکتہ یا دہلی کے چکر کاٹنے میں مصروف ہو جاتے ہیں۔پہاڑی علاقوں میں اس بار ووٹرز کے درمیان خاموشی ہے۔ کارکنوں کی یہ ناراضگی آنے والے انتخابات میں ووٹنگ کے تناسب اور نتائج پر بڑا اثر ڈال سکتی ہے، کیونکہ گراو¿نڈ لیول پر کام کرنے والے "سپاہی” اب اپنے ہی لیڈروں سے مایوس ہو چکے ہیں۔

Back to top button
Translate »