پہلے مرحلے کی پولنگ سے کیا بی جے پی کو کوئی فائدہ پہنچا؟

پہلے مرحلے کی پولنگ سے کیا بی جے پی کو کوئی فائدہ پہنچا؟

پہلے مرحلے کی پولنگ کے بعد بی جے پی کے اندرونی حلقوں میں جہاں ایک طرف جیت کا دعویٰ کیا جا رہا ہے، وہیں دوسری طرف کچھ خدشات اور سوالات بھی جنم لے رہے ہیں۔ ‘پدم گڑھ’ (بی جے پی کے گڑھ) سمجھے جانے والے علاقوں میں کارکردگی کو لے کر پارٹی گہری سوچ بچار میں ہے۔وزیر داخلہ امیت شاہ نے دعویٰ کیا ہے کہ 152 میں سے بی جے پی 110 سے زیادہ نشستیں جیتے گی۔
انہوں نے اس اعتماد کی بنیاد حکومت مخالف لہر (Anti-incumbency)، خواتین کی بلا خوف و خطر ووٹنگ اور بدعنوانی سے نجات کی خواہش کو قرار دیا ہے۔
2021 کے انتخابات میں ان 152 نشستوں میں سے بی جے پی نے 59 جیتی تھیں، جبکہ بقیہ 142 نشستوں (جہاں ابھی ووٹنگ ہونی ہے) میں سے صرف 18 بی جے پی کے پاس تھیں۔ اس لیے بی جے پی کے لیے ‘پاور پلے’ میں زیادہ سے زیادہ اسکور کرنا ضروری ہے۔شمالی بنگال، جنگل محل، بونکڑا، پرولیا اور مشرقی مدنی پور وہ علاقے ہیں جہاں بی جے پی کی گرفت مضبوط رہی ہے۔
اگرچہ شوبھیندو ادھیکاری نے 125 نشستیں جیتنے کا دعویٰ کیا ہے، لیکن پارٹی کے اندرونی ذرائع درج ذیل وجوہات پر فکر مند ہیں:کئی بوتھوں پر بی جے پی کے ایجنٹس کا نہ ہونا اور نچلی سطح کے کارکنوں کی عدم فعالیت تشویش کا باعث بنی ہے۔ شمالی بنگال میں ‘راج بنشی’ ووٹوں کا برقرار رہنا اور اننت مہاراج کے ساتھ دوری پارٹی کے لیے سوالیہ نشان ہے۔ اسی طرح، قبائلی (آدی واسی) ووٹوں کو اپنی طرف مائل کرنے کے لیے بابو لال مرانڈی جیسے لیڈروں کو لایا گیا، لیکن اس کا کتنا اثر ہوا، اس کا تجزیہ جاری ہے۔

Back to top button
Translate »