بنگلہ دیش میں ہندوؤں کے قتل کے خلاف مالدہ کے ہوٹل مالکان کا سخت قدم: ‘بنگلہ دیشیوں کو کمرے نہیں دیں گے’

بنگلہ دیش میں ہندوؤں کے قتل کے خلاف مالدہ کے ہوٹل مالکان کا سخت قدم: 'بنگلہ دیشیوں کو کمرے نہیں دیں گے'

اسٹاف رپورٹر، مالدہ: بنگلہ دیشی شہریوں کے لیے ویزا بند ہونے کے بعد اب مالدہ کے ہوٹلوں کے دروازے بھی بند کر دیے گئے ہیں۔ اگر کسی کے پاس پہلے سے جاری شدہ پاسپورٹ یا ویزا موجود ہو تب بھی اسے مالدہ ضلع میں ہوٹل کی سہولت نہیں ملے گی۔ مالدہ شہر کے ہوٹل مالکان نے یہ فیصلہ بنگلہ دیش میں اقلیتی ہندوؤں کے مبینہ قتل عام کے خلاف احتجاجاً کیا ہے۔

شہر کے تمام ہوٹل مالکان نے اپنی تنظیم کے پلیٹ فارم پر متفقہ طور پر یہ فیصلہ لیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بنگلہ دیش میں ہندو برادری پر مظالم ڈھائے جا رہے ہیں، ان کے گھر جلائے جا رہے ہیں اور انہیں بے رحمی سے قتل کیا جا رہا ہے۔ اس کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے یہاں کے ہوٹل تاجروں نے فیصلہ کیا ہے کہ پارِ بنگال (بنگلہ دیش) کے کسی بھی شہری کو ہوٹل میں کمرہ نہیں دیا جائے گا۔ بنگلہ دیشیوں کے لیے مالدہ کے ہوٹلوں کے دروازے مکمل طور پر بند کر دیے گئے ہیں۔

بنگلہ دیش میں اس وقت صورتحال انتہائی کشیدہ ہے، جس کی وجہ سے ہندوستانی سرحدی دیہاتوں کے لوگ خوفزدہ ہیں۔ سرحد پر بی ایس ایف (BSF) کی نگرانی بڑھا دی گئی ہے، اس کے باوجود مختلف حلقوں سے بدامنی کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

جمعرات کو مالدہ ڈسٹرکٹ ہوٹل اونرز ایسوسی ایشن کے سکریٹری اور ضلع چیمبر آف کامرس کے ممبر کرشنیندو چودھری نے کہا: "ہمیں سرکاری یا غیر سرکاری طور پر کسی نے کوئی حکم نہیں دیا ہے۔ ہم نے موجودہ حالات کو بھانپتے ہوئے، اپنی سیکورٹی کی خاطر اور وہاں ہونے والی بربریت کے خلاف احتجاج کے طور پر یہ فیصلہ کیا ہے اور تنظیم کے تمام ارکان کو اس سے آگاہ کر دیا ہے۔”

Back to top button
Translate »