شوٹر دمینتی سین کے والد سے ملتے ہی کیا کہا؟ بیٹی کو واپس پا کر ماں کو سکون ملا

شوٹر دمینتی سین کے والد سے ملتے ہی کیا کہا؟ بیٹی کو واپس پا کر ماں کو سکون ملا

صبح سویرے ایک نامعلوم نمبر سے شوٹر دمینتی سین کے والد دھروب جیوتی سین کو فون آیا۔ فون آتے ہی انہوں نے ایک لمحہ ضائع کیے بغیر گھر سے موٹر بائیک پر نکلیے۔ پہلے ہوڑہ اسٹیشن ہوتے ہوئے رام کرشنا پور گھاٹ گئے۔ وہاں جا کر جیٹی پر اپنی بیٹی کو دیکھا۔ تقریباً 48 گھنٹے لاپتہ رہنے کے بعد پہلی بات چیت میں والد اور بیٹی دونوں جذباتی ہو گئے۔ شوٹر نے سب سے پہلے کہا: "ابا، چلو گھر چلتے ہیں۔”
دھروب جیوتی صاحب نے بتایا: "صبح ایک شخص نے مجھے فون کر کے بتایا کہ دمینتی کو دوسرے لباس میں رام کرشنا پور گنگا کے گھاٹ کے قریب گھومتے دیکھا گیا ہے۔ اس کے فوراً بعد میں وہاں پہنچا۔ جا کر دیکھا کہ وہ لانچ گھاٹ کی جیٹی کے ایک کونے میں خاموش بیٹھی ہے۔ میں جاتے ہی اس نے مجھ سے کہا: ابا، چلو گھر چلتے ہیں۔” بیٹی اچانک کیوں لاپتہ ہو گئی تھی، اس سوال کے جواب میں دھروب جیوتی نے بتایا کہ شاید دمینتی پڑھائی اور کھیل کے درمیان مناسب توازن نہیں رکھ پا رہی تھی، اس لیے ذہنی دباو¿ کا شکار تھی۔ کیونکہ وہ واپس آ کر ہی بتایا کہ وہ دوبارہ کھیل پر توجہ مرکوز کرنا چاہتی ہے۔
ہاوڑہ میں والدین کے پاس واپس آ کر قومی سطح کی رائفل شوٹر دمینتی سین نے بتایا: "ہاوڑہ اسٹیشن سے وہ شری رام پور اسٹیشن پر اتری۔ وہاں ان کی ملاقات ایک جنوبی خاتون سے ہوئی۔ انہوں نے میری بہت مدد کی۔ انہوں نے مجھے کپڑے دیے اور کھانا کھلایا۔” دمینتی کو ہاوڑہ تھانے لے جانے کے بعد ہاوڑہ سٹی پولیس کے اعلیٰ افسران نے ان سے پوچھ گچھ کی۔ بعد میں ہاوڑہ سٹی پولیس کے ڈپٹی کمشنر (سینٹرل) توفیق علی اعظم نے کہا: "دمینتی خود واپس آئی ہیں۔ گھر میں والدین کے ساتھ کھیل اور پڑھائی کو لے کر کچھ مسائل تھے۔ وہ مختلف جگہوں پر رہی۔ وہ کہاں تھی، کیسی تھی، تحقیقات کی جا رہی ہیں۔”
واضح رہے کہ دوسرے دنوں کی طرح گزشتہ جمعرات کو صبح 9 بجے کے قریب دمینتی اپنے درمیانی ہاوڑہ کے اومہ چرن بھٹاچاریہ لین والے گھر سے دودھ خریدنے نکلی تھیں۔ ان کے پاس موبائل یا کوئی پیسہ نہیں تھا۔ نائٹ ڈریس پہن کر 15 سالہ دمینتی دکان پر گئیں۔ دکان سے واپس آ کر 10 بجے کے قریب دوسرے دنوں کی طرح انہیں اپنے والد کے ساتھ پریکٹس کے لیے جانا تھا۔ لیکن جب 10 بج
گئے اور دمینتی گھر واپس نہ آئیں تو دھروب جیوتی انہیں ڈھونڈنے نکلیے۔ آس پاس کہیں پتہ نہ چلنے پر ہاوڑہ تھانے جا کر لاپتگی کی رپورٹ درج کرائی۔ دمینتی کو ڈھونڈنے کے لیے ہاوڑہ سٹی پولیس کی طرف سے چار ٹیمیں تشکیل دی گئیں۔ اس کے بعد ہفتہ کی صبح وہ خود گھر واپس آ گئیں۔
Back to top button
Translate »