تعلیم کا ماتم نہیں، مستقبل کا سوال
تعلیم کا ماتم نہیں، مستقبل کا سوال
تعلیم کا ماتم نہیں، مستقبل کا سوال
مولانا قاری اسحاق گورا
جنتر منتر کی سڑکوں پر بیٹھے ہوئے طلبہ صرف اپنے حق کے لیے احتجاج نہیں کر رہے، بلکہ وہ اس قوم کے مستقبل کو آواز دے رہے ہیں۔ کوئی ہاتھ میں پلے کارڈ لیے کھڑا ہے، کوئی خاموش بیٹھا ہے، کوئی نعرہ لگا رہا ہے اور کوئی بھوک ہڑتال پر ہے۔ لیکن ان سب کے درمیان سب سے زیادہ نمایاں چیز اگر کوئی ہے تو وہ ہے اقتدار کی خاموشی۔ ایسی خاموشی جو صرف الفاظ کی کمی نہیں بلکہ احساس کی کمی محسوس ہوتی ہے۔
یہ نوجوان کسی ذاتی مفاد کے لیے نہیں نکلے۔ ان کا مطالبہ نہ اقتدار ہے، نہ منصب، نہ مراعات۔ ان
کا سوال صرف اتنا ہے کہ تعلیم کو اس کا حق کیوں نہیں دیا جا رہا؟ آخر وہ کون سی مصلحتیں ہیں جن کے سامنے ایک طالب علم کی کتاب، اس کا خواب اور اس کا مستقبل بے وقعت ہو جاتا ہے؟
قوموں کی تاریخ میں ایسے لمحات بار بار نہیں آتے۔ کبھی ایک جنگ نسلوں کی قسمت بدل دیتی ہے، کبھی ایک انقلاب، اور کبھی ایک تعلیمی پالیسی۔ جو قوم تعلیم کو سنبھال لیتی ہے، وہ اپنی تقدیر بھی سنبھال لیتی ہے۔ اور جو قوم تعلیم کو نظر انداز کر دیتی ہے، وہ رفتہ رفتہ اپنی شناخت، اپنی معیشت، اپنی تہذیب اور اپنی آزادی سب کچھ کھونے لگتی ہے۔
بدقسمتی سے آج ہمارے ملک میں تعلیم کا مسئلہ صرف ایک وزارت یا ایک بجٹ کا مسئلہ نہیں رہا بلکہ یہ قومی ضمیر کا مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔ جب ہزاروں نوجوان سڑکوں پر ہوں اور ایوانوں میں سکوت ہو تو سمجھ لینا چاہیے کہ کہیں نہ کہیں رابطہ ٹوٹ چکا ہے۔
مختلف سرکاری اور غیر سرکاری رپورٹیں گزشتہ برسوں میں یہ اشارہ دیتی رہی ہیں کہ کئی ریاستوں میں ہزاروں سرکاری اسکول یا تو بند کیے گئے، یا انہیں ضم کر دیا گیا، یا اساتذہ کی شدید کمی کے باعث وہ صرف نام کے ادارے رہ گئے۔ بعض جگہ دلیل دی گئی کہ بچوں کی تعداد کم تھی، کہیں مالی وسائل کی کمی کا حوالہ دیا گیا، اور کہیں انتظامی اصلاحات کا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا کسی قوم کے تعلیمی اداروں کو صرف اعداد و شمار کی بنیاد پر دیکھا جا سکتا ہے؟ ایک چھوٹا سا دیہی اسکول بھی کسی غریب بچے کے لیے یونیورسٹی سے کم اہم نہیں ہوتا۔
جب ایک اسکول بند ہوتا ہے تو صرف ایک عمارت کا دروازہ بند نہیں ہوتا، بلکہ کئی گھروں میں امید کا چراغ مدھم پڑ جاتا ہے۔ ایک بچہ جسے پہلے دو کلومیٹر چلنا پڑتا تھا، اب شاید آٹھ یا دس کلومیٹر جانے پر مجبور ہو۔ بہت سے والدین اپنی بچیوں کو اتنی دور بھیجنے سے ہچکچاتے ہیں۔ یوں ایک سرکاری فیصلے کا اثر صرف فائلوں تک محدود نہیں رہتا بلکہ ہزاروں زندگیوں پر پڑتا ہے۔
اسی دوران بعض ریاستوں میں مدارس کے حوالے سے بھی ایسے اقدامات دیکھنے کو ملے جنہوں نے ملک بھر میں بحث چھیڑ دی۔ کہیں مدارس کی قانونی حیثیت پر سوال اٹھائے گئے، کہیں رجسٹریشن کے نام پر پابندیاں لگیں، اور کہیں بلڈوزر کی سیاست نے تعلیمی اداروں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے۔ کیا تعلیم کو مذہب، سیاست یا شناخت کی عینک سے دیکھا جانا چاہیے؟ اگر کوئی ادارہ قانون کی خلاف ورزی کرتا ہے تو قانون سب کے لیے برابر ہونا چاہیے، لیکن اگر کارروائی کا تاثر صرف مخصوص اداروں تک محدود محسوس ہونے لگے تو اعتماد مجروح ہوتا ہے۔ اعتماد ٹوٹ جائے تو معاشرے میں فاصلے بڑھ جاتے ہیں، اور فاصلے بڑھ جائیں تو قومی یکجہتی کمزور پڑنے لگتی ہے۔
مدرسہ صرف ایک عمارت نہیں ہوتا۔ وہاں ایسے ہزاروں بچے تعلیم حاصل کرتے ہیں جن کے والدین مہنگے نجی اسکولوں کی فیس ادا کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔ وہاں قرآن کی تعلیم بھی ہوتی ہے، زبان بھی سکھائی جاتی ہے، تہذیب بھی دی جاتی ہے اور کردار بھی سنوارا جاتا ہے۔ اسی طرح سرکاری اسکول بھی صرف نصاب نہیں پڑھاتے بلکہ ملک کے کروڑوں غریب بچوں کو زندگی کا سہارا دیتے ہیں۔ اس لیے اسکول اور مدرسہ ایک دوسرے کے مخالف نہیں بلکہ ایک ہی درخت کی دو شاخیں ہیں جن کا مقصد انسان کو بہتر بنانا ہے۔
افسوس یہ ہے کہ آج تعلیم کا موضوع بھی سیاست کی گرد میں گم ہوتا جا رہا ہے۔ کبھی نصاب پر تنازع، کبھی زبان پر اختلاف، کبھی تاریخ پر بحث، اور کبھی اداروں پر سوال۔ لیکن ان تمام بحثوں کے درمیان اصل طالب علم کہیں کھو جاتا ہے۔
دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کو دیکھ لیجیے۔ انہوں نے سب سے پہلے اپنے تعلیمی نظام کو مضبوط کیا۔ جاپان نے جنگ کے بعد تعلیم کو اپنا سب سے بڑا ہتھیار بنایا۔ جنوبی کوریا نے غربت سے نکلنے کے لیے علم کو سرمایہ بنایا۔ فن لینڈ نے اپنے اساتذہ کو قوم کا معمار سمجھا۔ چین نے تحقیق پر سرمایہ لگایا۔ آج وہ ممالک دنیا کی قیادت کر رہے ہیں کیونکہ انہوں نے کتاب کو بوجھ نہیں، طاقت سمجھا۔
ہمارے یہاں اکثر سڑکوں، پلوں اور عمارتوں کو ترقی کی علامت بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ یقیناً بنیادی ڈھانچہ ضروری ہے، لیکن اس سے بھی زیادہ ضروری وہ ذہن ہیں جو ان عمارتوں کو معنی دیتے ہیں۔ اگر اسکول ویران ہوں، لائبریریاں سنسان ہوں، تحقیق کا چراغ بجھ جائے اور نوجوان مایوسی کا شکار ہوں تو بلند ترین عمارتیں بھی قوم کو عظیم نہیں بنا سکتیں۔
تعلیم صرف ملازمت حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں بلکہ سوچنے کا سلیقہ بھی سکھاتی ہے۔ یہی تعلیم انسان کو سوال کرنا سکھاتی ہے، دلیل دینا سکھاتی ہے، اختلاف کو برداشت کرنا سکھاتی ہے اور معاشرے میں مثبت کردار ادا کرنے کا شعور دیتی ہے۔ جب تعلیم کمزور ہوتی ہے تو صرف معیشت نہیں، اخلاق بھی کمزور ہوتے ہیں۔
قرآن کریم کی پہلی وحی “اقرائ” سے شروع ہوتی ہے۔ اس ایک لفظ میں پوری تہذیب کی بنیاد پوشیدہ ہے۔ یہ صرف پڑھنے کا حکم نہیں بلکہ علم حاصل کرنے، غور و فکر کرنے، تحقیق کرنے اور حقیقت تک پہنچنے کی دعوت ہے۔ اسلامی تاریخ گواہ ہے کہ جب مسلمانوں نے علم کو اپنایا تو بغداد، قرطبہ، دمشق، بخارا اور دہلی علم کے مراکز بن گئے۔ لیکن جب علم سے دوری اختیار کی گئی تو زوال نے بھی دروازہ کھٹکھٹانا شروع کر دیا۔
آج اگر ہمارے نوجوان احتجاج کر رہے ہیں تو ہمیں ان کے ہاتھ میں موجود پلے کارڈ سے زیادہ ان کی آنکھوں میں موجود بے چینی کو پڑھنے کی ضرورت ہے۔ ایک نوجوان جب بھوک ہڑتال پر بیٹھتا ہے تو وہ صرف اپنا جسم نہیں آزماتا بلکہ وہ پورے معاشرے کے ضمیر کو جھنجھوڑنے کی کوشش کرتا ہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ تعلیم کے شعبے میں صرف حکومت کی ذمہ داری نہیں بلکہ معاشرے کی بھی ذمہ داری ہے۔ والدین، اساتذہ، سماجی ادارے، مذہبی قیادت، صنعت کار اور میڈیا، سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ اگر قوم کا ہر طبقہ صرف تماشائی بنا رہے گا تو نقصان سب کو ہوگا۔ہمیں یہ بھی سوچنا ہوگا کہ آخر وہ کون سا ماحول پیدا ہو گیا ہے جہاں نوجوان تعلیم کے لیے سڑکوں پر آنے پر مجبور ہیں۔ کیا ان کی آواز سننے کے لیے احتجاج ہی واحد راستہ رہ گیا ہے؟ کیا مکالمے کے دروازے بند ہو چکے ہیں؟ اگر ایسا ہے تو یہ جمہوریت کے لیے بھی لمحہ فکریہ ہے۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ تعلیم کو سیاسی مفاد سے اوپر اٹھایا جائے۔ حکومتیں بدلتی رہتی ہیں، پالیسیاں بدلتی رہتی ہیں، لیکن قوموں کا مستقبل مستقل ہوتا ہے۔ اس مستقبل کے ساتھ تجربات نہیں کیے جا سکتے۔تعلیمی بجٹ میں اضافہ، نئے اسکولوں کا قیام، بند اسکولوں کی بحالی، اساتذہ کی تقرری، سرکاری اداروں کی مضبوطی، مدارس کے ساتھ منصفانہ رویہ، تحقیق کی حوصلہ افزائی اور غریب بچوں کے لیے مساوی مواقع—یہ سب کسی ایک جماعت کا ایجنڈا نہیں بلکہ قومی ایجنڈا ہونا چاہیے۔اگر آج ہم نے تعلیم کو بچا لیا تو کل تعلیم ہمیں بچا لے گی۔ لیکن اگر ہم نے کتاب کے بجائے نفرت کو، مکالمے کے بجائے خاموشی کو، اور تعمیر کے بجائے انہدام کو ترجیح دی تو آنے والی نسلیں ہمیں کبھی معاف نہیں کریں گی۔وہ پوچھیں گی کہ جب اسکول بند ہو رہے تھے تو آپ کہاں تھے؟ جب طلبہ بھوک ہڑتال پر تھے تو آپ کیا کر رہے تھے؟ جب تعلیم سیاست کی نذر ہو رہی تھی تو آپ کیوں خاموش تھے؟
تاریخ کی عدالت بہت سخت ہوتی ہے۔ وہ نہ عہدوں کو دیکھتی ہے اور نہ نعروں کو، وہ صرف نتائج دیکھتی ہے۔ اگر ایک نسل تعلیم سے محروم رہ گئی تو اس کا فیصلہ بھی تاریخ ہی سنائے گی۔ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ قومیں بندوق سے نہیں، کتاب سے بنتی ہیں۔ سلطنتیں طاقت سے قائم ہو سکتی ہیں، مگر تہذیب صرف علم سے زندہ رہتی ہے۔ جو قوم اپنی درسگاہوں کو آباد رکھتی ہے، وہ اپنے مستقبل کو محفوظ رکھتی ہے۔ اور جو قوم اپنے تعلیمی اداروں کو کمزور ہونے دیتی ہے، وہ رفتہ رفتہ اپنے فکری وجود کو بھی کھو دیتی ہے۔
آج جنتر منتر پر بیٹھا ہوا طالب علم دراصل صرف ایک سوال پوچھ رہا ہے: “کیا اس ملک میں تعلیم اب بھی قومی ترجیح ہے؟” اگر اس سوال کا جواب ہمارے پاس نہیں، تو ہمیں صرف طلبہ پر نہیں بلکہ خود اپنے اجتماعی شعور پر بھی غور کرنا ہوگا۔
وقت ابھی گزرا نہیں۔ کتاب کو پھر سے مرکز بنانا ہوگا، استاد کو عزت دینی ہوگی، طالب علم کو اعتماد دینا ہوگا، اور ہر اس ادارے کی حفاظت کرنی ہوگی جہاں علم کی شمع روشن ہے۔ کیونکہ جب قلم بجھ جاتا ہے تو صرف روشنائی ختم نہیں ہوتی، قوموں کا مستقبل بھی تاریک ہو جاتا ہے۔

