کوچ بہار میں ڈی وائی ایف آئی کی ریلی پر بی جے پی کا حملہ
کوچ بہار میں ڈی وائی ایف آئی کی ریلی پر بی جے پی کا حملہ

ڈیموکریٹک یوتھ فیڈریشن آف انڈیا (ڈی وائی ایف آئی) کے کارکنوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی کے حامیوں نے اتوار کو کوچ بہار شہر کے گنج باری علاقے میں ان پر حملہ کیا۔صورتحال کو قابو میں لانے کے لیے پولیس کی بڑی نفری تعینات کی گئی۔ واقعے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔ پولیس ذرائع کے مطابق، اتوار کو گنج باری کے پنچانن بھون میں ڈی وائی ایف آئی کے ترجمان ‘یوہاشکتی’ کی59ویں سالگرہ کے موقع پر ایک تقریب منعقد کی گئی تھی۔
ڈی وائی ایف آئی کے رہنماو¿ں نے دعویٰ کیا کہ ضلع کے مختلف حصوں — بشمول دنہاٹا اور توفان گنج — سے کارکن چھوٹی گاڑیوں اور ای رکشوں میں تقریب میں شرکت کے لیے آ رہے تھے۔ ان کے مطابق، دوپہر کے قریب پانچ مقامات — بشمول گھوگھوماری، داو¿یاگوری اور مارو گنج — پر ان کی سات گاڑیوں پر حملہ کیا گیا اور انہیں نقصان پہنچایا گیا۔ڈی وائی ایف آئی کے ریاستی سیکریٹری دھروب جیوتی ساہا نے الزام لگایا، "بی جے پی نے پولیس کی موجودگی میں ہمارے پروگرام پر حملہ کیا۔ ہمارے کارکنوں نے مزاحمت کی۔ اس واقعے میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔
ڈی وائی ایف آئی کے ریاستی سیکریٹریٹ کے رکن سینک سور نے اس ‘اچانک حملے’ کی مذمت کرتے ہوئے کہا: "ملزمان کو فوری طور پر گرفتار کیا جانا چاہیے۔ایک اور ڈی وائی ایف آئی رہنما نے مزید کہا: "بی جے پی کے کارکنوں اور حامیوں کا ایک گروپ پنچانن بھون میں داخل ہوا اور اجلاس میں خلل ڈالنے کی کوشش کی۔ دونوں فریقوں کے درمیان جھگڑا اور اس کے بعد تصادم ہوا، جو تیزی سے پورے گنج باری علاقے میں پھیل گیا۔مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ تصادم کے دوران کچھ بی جے پی کارکنوں نے عمارت کے باہر ایک پٹرول پمپ پر پناہ لی، جسے بعد میں نقصان پہنچایا گیا۔ دونوں طرف سے اس توڑ پھوڑ کے حوالے سے ایک دوسرے پر الزامات عائد کیے گئے۔ڈی وائی ایف آئی نے دعویٰ کیا ہے کہ بی جے پی کے کارکن ان کی مزاحمت کی وجہ سے موقع سے فرار ہو گئے۔

