تین مقدمات میں ابھیشیک کو ریلیف! ابھی سخت اقدام نہ کرنے کا حکم عدالت کا
تین مقدمات میں ابھیشیک کو ریلیف! ابھی سخت اقدام نہ کرنے کا حکم عدالت کا
ریاست میں اقتدار کی تبدیلی کے بعد ابھیشیک بندوپادھیائے کے خلاف مختلف تھانوں میں یکے بعد دیگرے ایف آئی آر درج کی گئی ہیں۔ ان میں سے تین مقدمات میں فی الحال ابھیشیک کے خلاف کوئی سخت اقدام نہیں۔ جمعرات کو کولکاتا ہائی کورٹ نے یہ کہا۔ تاہم جج سو¿گت بھٹاچاریہ نے کہا کہ مستقبل میں ان کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے پر لگام لگانے کے بارے میں کوئی حکم نہیں دیا جائے گا۔ مقدمے کی اگلی سماعت 6 اگست کو ہے۔ عدالت نے کہا ہے کہ اس دن تک تین مقدمات میں ابھیشیک کے خلاف سخت اقدام نہیں کیا جائے گا۔
ابھیشیک کے وکیل کی طرف سے دلیل دی گئی کہ جب شوبھیندو ادھیکاری ریاست کے حزب اختلاف کے رہنما تھے، تو ان کی درخواست کے تناظر میں ہائی کورٹ نے متعدد مقدمات میں تحفظ فراہم کیا تھا۔ مستقبل میں عدالت کو مطلع کیے بغیر کوئی ایف آئی آر درج نہ کی جائے، اس کا حکم بھی دیا گیا تھا۔ اب ابھیشیک کے معاملے میں بھی ایسا ہی حکم دینے کی درخواست کی گئی تھی ڈائمنڈ ہاربر کے ترنمول (کالی گھاٹ) رکن پارلیمنٹ کے وکیل نے۔ جج کا مشاہدہ تھا کہ اس وقت ریاستی حکومت نے یہ نہیں کہا تھا کہ ہر ایف آئی آر کے لیے الگ الگ مقدمہ کرنا ہوگا، جیسا کہ موجودہ ریاستی حکومت نے کہا ہے۔ لہٰذا تمام مقدمات میں تحفظ نہیں دیا جا سکتا۔ اس کے علاوہ ابھیشیک کے خلاف درج 11 میں سے تین مقدمات کی دستاویزات عدالت میں جمع کر دی ہیں ریاست نے۔ اسی وجہ سے فی الحال بھوانی پور، کالی تلا اور جنوبی 24 پرگنہ کے بشن پور تھانے میں درج مقدمات میں ابھیشیک کے خلاف سخت اقدام نہیں کیا جا سکے گا۔

