ڈھائی مہینے گزر جانے کے باوجود اسمبلی کی 41 کمیٹیاں تشکیل نہیں دی گئیں
ڈھائی مہینے گزر جانے کے باوجود اسمبلی کی 41 کمیٹیاں تشکیل نہیں دی گئیں
4 مئی کو اسمبلی انتخابات کے نتائج کے اعلان کے بعد ڈھائی مہینے گزر چکے ہیں۔ اس دوران بجٹ اجلاس کے دو مراحل مکمل ہو چکے ہیں۔ لیکن ابھی تک اسمبلی کی تمام کمیٹیاں تشکیل نہیں دی گئی ہیں۔ اس کی وجہ سے جہاں اسمبلی کے کچھ اہم کاموں پر اثر پڑ رہا ہے، وہیں کمیٹی کے اجلاسوں میں شرکت کر کے واجب الادا روزانہ الاو¿نس سے بھی اراکین محروم ہو رہے ہیں۔ اس پر حکمران اور اپوزیشن دونوں طرف کے اراکین میں غم و غصہ پایا جاتا ہے۔
اسمبلی کی مستقل کمیٹیوں سمیت کل 41 کمیٹیاں ہیں۔ ان کمیٹیوں میں حکمران اور اپوزیشن جماعتوں کے اراکین کو شامل کر کے مختلف اہم امور پر گفتگو ہوتی ہے۔ حکومت کی مختلف پالیسیوں کے تعین میں اراکین کی رائے لینے، انتظامی امور کا جائزہ لینے اور کسی مالی بے ضابطگی یا بدعنوانی کی شکایت سامنے آنے پر اسے حکومت کی توجہ میں لانے میں ان کمیٹیوں کا اہم کردار ہے۔ اس لیے اتنا عرصہ گزرنے کے باوجود کمیٹیاں تشکیل نہ ہونے پر اسمبلی کے معمول کے کام کاج پر بھی اپوزیشن اراکین کی طرف سے سوالات اٹھ رہے ہیں۔
کمیٹیاں تشکیل نہ ہونے کے معاملے کو بہت سے لوگ نئی حکومت کی کابینہ تشکیل دینے میں تاخیر سے بھی جوڑ کر دیکھ رہے ہیں۔ 9 مئی کو وزیراعلیٰ شوبھندو ادھیکاری کے ساتھ پانچ وزراءنے حلف اٹھایا تھا۔ اس کے بعد یکم جون کو مزید 35 وزراءنے حلف اٹھا کر مکمل کابینہ تشکیل دی گئی۔ یعنی وزیراعلیٰ سمیت ابتدائی کابینہ کے حلف کے 23 دن بعد مکمل کابینہ تشکیل پائی تھی۔ اسی طرح اسمبلی کی کمیٹیوں کی تشکیل میں بھی تاخیر نظر آ رہی ہے، جیسا کہ اراکین کا کہنا ہے۔

