بھاجپائی خواتین نے تلے ہوئے کھانوں پر بریک لگانے کا فیصلہ کیا

بھاجپائی خواتین نے تلے ہوئے کھانوں پر بریک لگانے کا فیصلہ کیا

بی جے پی کی خواتین بریگیڈنے ایک نیا پروگرام شروع کیا گیا ہے۔ اسٹیج پر کوئی سیاسی نعرے نہیں، مخالفین کے خلاف کوئی حملے نہیں۔ بحث کا مرکز مکمل طور پر گھریلو موضوعات ہیں، باورچی خانے کی باریکیاں۔ اور گرفت میں بنگالی کی پیدائشی محبت – چپ، سنگاڑا، بیگنی سمیت تمام تر تلے ہوئے کھانے۔ دو دن قبل بانکڑا شہر کے نوتن گنج دھرم شالہ کے کانفرنس ہال میں داخل ہوتے ہوئے لگا جیسے کوئی سیاسی پروگرام نہیں، بلکہ صحت سے متعلق آگاہی کا کوئی کیمپ ہوا۔تلے ہوئے کھانوں پر باقاعدہ مباحثہ ہوا۔ سامنے سب خواتین تھیں۔ کسی کے ہاتھ میں پانی کی بوتل، کوئی پاس والے سے کان میں کان لگا کر کہہ رہی تھی، ”آج گھر جا کر تیل تھوڑا کم کرنا پڑے گا شاید!
اس دن کے پروگرام میں بی جے پی کی ریاستی جنرل سکریٹری نیتا چٹوپادھیائے نے مائیکروفون ہاتھ میں لے کر کہا، ”ہم چپ-سنگاڑے کے خلاف تحریک نہیں چلا رہے۔ لیکن اگر چپ روز کا ساتھی بن جائے، تو ڈاکٹر کا چیمبر بھی ایک دن باقاعدہ منزل بن سکتا ہے۔” ان کے الفاظ میں، ”کھانے کا ذائقہ ہوگا، لیکن جسم کو نقصان پہنچا کر نہیں۔” اسٹیج پر آ کر بی جے پی کے بانکڑا تنظیمی ضلع کی خواتین مورچہ کی صدر شپرا مکھرجی نے گویا براہ راست کڑاہی کے خلاف چارج شیٹ پڑھ کر سنائی۔ مذاق میں کہا، ”بہت سے گھروں میں اب خاندان کے افراد کی تعداد چار ہونے کے باوجود کڑاہی کو پکڑیں تو پانچویں ہوتی ہے ۔صبح ل±چی، دوپہر مچھلی بھاجا، شام چپ، رات پھر کچھ نہ کچھ تلا ہوا۔ کڑاہی کو بھی تھوڑا آرام دینا چاہیے۔
اسی سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے خواتین رہنما رومیلہ چکرورتی کا کہنا تھا، ”موبائل پر چارج 20 فیصد نیچے آتے ہی سب پریشان ہو جاتے ہیں۔ لیکن جسم کی شریانوں میں کولیسٹرول 80 فیصد بھر رہا ہے یا نہیں، اس پر کتنے لوگ سوچتے ہیں؟ لہٰذا آج سے تیل بچت موڈ آن کریں۔” پروگرام میں موجود خواتین کو صحت سے متعلق آگاہی کے پمفلٹ دیے گئے۔ مقررین کا مشورہ تھا کہ تلے ہوئے کھانے مکمل طور پر ترک نہ کریں، لیکن ‘تہوار کے مہمان’ کی حیثیت سے رہیں، ‘گھر کے مستقل رکن’ بن کر نہیں۔
Back to top button
Translate »