سرکاری ہسپتالوں میں مریضوں کے کھانے کے بجٹ میں اضافے کی ٹینڈر پر اب کوئی روک نہیں

سرکاری ہسپتالوں میں مریضوں کے کھانے کے بجٹ میں اضافے کی ٹینڈر پر اب کوئی روک نہیں

ریاستی حکومت نے سرکاری ہسپتالوں میں مریضوں کے کھانے کے بجٹ میں اضافے کا منصوبہ بنایا ہے۔ لیکن ٹینڈر سے متعلق پیچیدگیوں کی وجہ سے ہائی کورٹ کے سنگل بنچ نے بجٹ میں اضافے پر روک لگا دی تھی۔ اب ڈویڑن بنچ نے اس روک کو ختم کر دیا ہے۔

سابقہ حکومت کے دور میں ہسپتالوں میں دن میں تین وقت کے کھانے کے لیے فی مریض 56 روپے 64 پیسے مختص تھے، جو اب بھی جاری ہیں۔ تاہم نئی حکومت نے اسے بڑھا کر فی مریض 110 روپے کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ اسی کے مطابق ہسپتالوں میں پکا ہوا کھانا فراہم کرنے سے متعلق 23 جولائی کو ایک نوٹیفکیشن جاری کیا گیا تھا۔ اس کی بنیاد پر جاری کردہ ٹینڈر پر اس سے قبل جسٹس کرشنا راو¿ نے روک لگا دی تھی۔ عدالت کا عبوری حکم تھا کہ حکومت اس ٹینڈر کے تحت کوئی موثر اقدام نہیں کر سکتی۔

سنگل بنچ کے اس حکم کو چیلنج کرتے ہوئے ریاست اعلیٰ بنچ میں گئی۔ منگل کو ہائی کورٹ کے جسٹس شمپا سرکار اور جسٹس اجئے کمار گپتا کی بنچ میں اس مقدمے کی سماعت ہوئی۔ وہاں ڈویڑن بنچ نے سنگل بنچ کے عبوری حکم کو ختم کر دیا۔

Back to top button
Translate »