
درگا پور کے قبائلی نوجوان کی پراسرار موت! چھتیس گڑھ کے جنگل میں مزدور کی بوسیدہ لاش برآمد
درگا پور کے قبائلی نوجوان کی پراسرار موت! چھتیس گڑھ کے جنگل میں مزدور کی بوسیدہ لاش برآمد
دوسری ریاست میں کام پر گئے مزدور کی پراسرار موت! چھتیس گڑھ کے جنگل سے قبائلی نوجوان کی بوسیدہ لاش ملی۔ تقریباً 15 دن لاپتہ رہنے کے بعد نوجوان کی لاش برآمد ہوئی۔ 24 جولائی کو وہ کام پر گیا تھا۔ 26 تاریخ سے وہ لاپتہ ہو گیا۔ کیسے، کیوں موت واقع ہوئی، اس پر ابہام ہے۔ لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دیا گیا ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق، مقتول قبائلی نوجوان کا نام سکومار کسکو ہے۔ عمر 33 سال۔ وہ درگا پور کے کانکسا تھانے کے بدبیہار گاو¿ں پنچایت کے سوتا ڈانگا علاقے کا رہائشی تھا۔ 24 جولائی کو درگا پور-فرید پور علاقے کے ایک ٹھیکیدار کے ذریعے وہ چھتیس گڑھ کے کانکر ضلع میں گیا تھا۔ وہ بورنگ کے کام پر گیا تھا۔ 26 جولائی کو اس کے ساتھی گھر واپس آئے اور بتایا کہ سکومار نہیں مل رہا ہے۔ اس کے بعد نوجوان کے اہل خانہ نے تھانے میں گمشدگی کی شکایت درج کرائی۔ پولیس نے تفتیش شروع کی۔ اس دوران پولیس کو اطلاع ملی کہ جنگل سے ایک نامعلوم لاش برآمد ہوئی ہے۔ اسے برآمد کر کے تفتیش کاروں نے سکومار کے اہل خانہ کو اطلاع دی۔ لاش کی شناخت سکومار کے رشتہ داروں نے کی۔ تاہم اس کی موت کیسے ہوئی، وہ جنگل تک کیسے پہنچا؟ اس پر ابہام ہے۔ مقتول کے بھائی سکھ دیو کسکو نے کہا، "درگا پور-فرید پور کے ایک ٹھیکیدار بھائی کو کام پر لے گئے تھے۔ پھر ساتھی گھر واپس آئے اور بتایا کہ بھائی نہیں مل رہا ہے۔ میں نے گمشدگی کی شکایت درج کرائی تھی۔ جہاں کام پر گئے تھے، وہاں سے بھائی کی زخمی، بوسیدہ لاش برآمد ہوئی ہے۔” پوسٹ مارٹم کی ابتدائی رپورٹ آنے کے بعد موت کی وجہ واضح ہوگی۔ نوجوان کے ساتھیوں سے پولیس پوچھ گچھ کر رہی ہے۔


