‘معاف نہ کیے جانے والے الفاظ بولے ہیں’، نیتا جی مسئلے پر اننت کو قانون کی یاد دلاتے ہوئے شوبھندو کا سخت پیغام

'معاف نہ کیے جانے والے الفاظ بولے ہیں'، نیتا جی مسئلے پر اننت کو قانون کی یاد دلاتے ہوئے شوبھندو کا سخت پیغام

نیتا جی کے بارے میں قابل اعتراض تبصرہ کرنے پر راجیہ سبھا کے بی جے پی رکن اننت مہاراج سزا کا سامنا کر رہے ہیں۔ ریاست نے ان کا بنگا بھوشن اعزاز واپس لے لیا ہے۔ ان کے خلاف کل 6 ایف آئی آر درج ہوئی ہیں۔ اننت مہاراج نے سوشل میڈیا پر ویڈیو پوسٹ کر کے واقعے پر معافی مانگ لی ہے، لیکن وزیر اعلیٰ شوبھندو ادھیکاری نے واضح کیا کہ اس سے تمام مسائل حل نہیں ہوں گے۔ انہوں نے کہا، "انہوں نے ایسے الفاظ کہے ہیں جو معاف کیے جانے کے قابل نہیں ہیں۔”
معاملہ کیا ہے؟ راجیہ سبھا کے بی جے پی رکن اننت مہاراج نے نیتا جی سبھاش چندر بوس کے بارے میں قابل اعتراض تبصرہ کیا تھا۔ انہوں نے کہا، "یہ خیال کہ صرف مہاتما گاندھی، جواہر لعل نہرو یا کانگریس کی تحریکوں کی وجہ سے ہندوستان آزاد ہوا، درست نہیں ہے۔ کوچ بہار کے مہاراجہ کے کردار کو تاریخ میں مناسب اہمیت نہیں دی گئی۔ کوچ بہار کے مہاراجہ نے لڑ کر ہٹلر اور آزاد ہند فوج کو شکست دی تھی۔ جرمنی کے ہاتھوں قید برطانوی ہندوستانی فوجیوں کو نیتا جی کے حوالے کر دیا گیا تھا۔ انہی فوجیوں سے آزاد ہند فوج بنی۔ نیتا جی نے اس موقع کا غلط استعمال کیا۔ اگر آج میں حکومت کے خلاف ہتھیار اٹھا لوں تو مجھے انکاو¿نٹر کر دیا جائے گا۔ برطانوی دور میں بھی قانون تھا۔ اگر کوچ بہار کے مہاراجہ کو آزاد ہندوستان کا شہنشاہ بنا دیا جاتا تو ملک کی تقسیم نہ ہوتی۔ ہندوستان اور پاکستان ایک ہی رہتے۔”
حال ہی میں وزیر اعلیٰ شوبھندو ادھیکاری نے کہا تھا کہ اگر کسی نے نیتا جی کی توہین کی تو اسے برداشت نہیں کیا جائے گا اور سخت سزا کی تنبیہ بھی کی تھی۔ اس کے بعد کل یعنی جمعرات کو ریاستی حکومت نے اننت مہاراج کا بنگا بھوشن اعزاز واپس لے لیا۔ مہمتا دور میں ریاست کی طرف سے یہ اعزاز اننت مہاراج کو دیا گیا تھا۔ ریاست کے اس سخت اقدام کے باوجود اننت نے کچھ دیر اپنا دفاع کرنے کی کوشش کی، تاہم بعد میں اپنا موقف بدلتے ہوئے معافی مانگ لی۔ جمعہ کو بھوانی پور میں یوب شکتی کپ کے افتتاح کے موقع پر وزیر اعلیٰ نے اس موضوع پر بات کی۔ انہوں نے کہا، "میں نے دیکھا کہ انہوں نے ویڈیو پوسٹ کر کے افسوس کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ آئندہ ایسا رویہ نہیں اپنائیں گے۔ ہمیں اس معاملے کو مثبت طور پر دیکھنا چاہیے، لیکن ان کے خلاف ایف آئی آر درج ہوئی ہے۔ اس سلسلے میں 182 پوسٹس ڈیلیٹ کی گئی ہیں، کچھ کے فیس بک اکاو¿نٹس ڈیلیٹ کیے گئے ہیں اور 5 افراد کو گرفتار بھی کیا گیا ہے۔ تاہم یاد رکھنا ہوگا کہ انہوں نے ایسے الفاظ کہے ہیں جو معاف کیے جانے کے قابل نہیں ہیں۔”

Back to top button
Translate »