آسمانی بجلی سے ہونے والی اموات کو روکنے کےلئے ریاستی حکومت کے اقدامات پر سوال

آسمانی بجلی سے ہونے والی اموات کو روکنے کےلئے ریاستی حکومت کے اقدامات پر سوال

حالیہ دنوں میں بارش کے ساتھ بجلی کے کثرت سے گرنے کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے، جس کے بعد یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ کیا بجلی گرنے سے ہونے والی اموات سے بچنے کے لیے حکومت کی طرف سے مناسب اور مو¿ثر احتیاطی تدابیر اختیار کی گئی ہیں؟ نیز، عوام الناس کو کن احتیاطی تدابیر پر عمل کرنا چاہیے، اس بارے میں کیا کافی آگاہی مہم چلائی گئی ہے؟یہ تشویش اس لیے بڑھ گئی ہے کہ گزشتہ چند سالوں کی طرح اس سال بھی مختلف اضلاع سے بجلی گرنے کے نتیجے میں ہلاکتوں کی خبریں آنے لگی ہیں۔ ہر سال مون سون کے دوران بجلی گرنے سے درجنوں افراد جاں بحق ہو جاتے ہیں، لیکن اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے حکومتی سطح پر کوئی ٹھوس اور دیرپا حل نظر نہیں آتا۔
ماہرین کے مطابق، بجلی گرنے کے دوران کھلے میدان، درختوں کے نیچے، یا اونچی جگہوں پر رہنا انتہائی خطرناک ہوتا ہے۔ اس کے باوجود دیہی علاقوں میں کسان اور مزدور اکثر بارش کے دوران کھلے میں کام کرتے رہتے ہیں، جس سے ان کی جان کو شدید خطرہ لاحق ہوتا ہے۔عوام کو چاہیے کہ وہ بجلی گرنے کے دوران گھروں یا محفوظ عمارتوں میں پناہ لیں، بجلی کے آلات کو چھونے سے گریز کریں، اور موبائل فون کا استعمال کم سے کم کریں۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ ریڈیو، ٹیلی ویڑن اور سوشل میڈیا کے ذریعے فوری وارننگ جاری کرے، اسکولوں میں بیداری پروگرام منعقد کرے، اور دیہی علاقوں میں بجلی سے بچاو¿ کے آلات (لائٹننگ آرسٹرز) نصب کرے۔تاہم، جب تک عملی اقدامات نہیں کیے جاتے اور عوام تک بروقت معلومات نہیں پہنچتی، تب تک ہر سال یہ المیہ دہرایا جاتا رہے گا۔ اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت اس مسئلے کو سنجیدگی سے لے اور جانی نقصان کو کم کرنے کے لیے فوری اور مو¿ثر اقدامات کرے۔

Back to top button
Translate »