
‘ماں نہیں رہی’، سن کر اسپتال روانہ ہوئے مگر آخری دیدار نہ ہو سکا، ٹرین سے گر کر نوجوان کی موت
'ماں نہیں رہی'، سن کر اسپتال روانہ ہوئے مگر آخری دیدار نہ ہو سکا، ٹرین سے گر کر نوجوان کی موت
ماں نہیں رہی! ہسپتال سے فون پر خبر سنتے ہی ٹرین میں سوار ہوئے احسن علی۔ لیکن مقدر میں تھا کہ ماں کا آخری دیدار نہ ہو گا! ٹرین سے عجیب طور پر گر گئے نوجوان۔ مقامی لوگوں نے آہٹ سن کر انہیں خون آلود حالت میں بچایا اور ہسپتال پہنچایا مگر فائدہ نہ ہوا۔ اسی دن ماں اور بیٹے دونوں کی موت ہو گئی۔ خاندان غم میں ٹوٹ گیا۔چ
مورشید آباد کے شمشیر گنج کے شیر پور کی رہائشی سلیمہ بی بی۔ عمر 60 سال۔ وہ جنگ پور سب ڈویڑن ہسپتال میں داخل تھیں۔ جمعرات کی گہری رات ان کا انتقال ہو گیا۔ خبر پا کر جلدی ہسپتال جانے کے لیے روانہ ہوئے بیٹے احسن علی۔ ٹرین میں سوار ہو کر کھڑکی کے قریب والی سیٹ پر بیٹھے۔ گہری رات تیز رفتار ٹرین دوڑ رہی تھی۔ منزل ابھی بہت دور تھی۔ سجنی پاڑہ علاقہ عبور کرتے ہوئے اچانک حادثہ۔ کسی کو کچھ سمجھنے سے پہلے ہی احسن ٹرین سے گر گئے۔ چیخ سن کر مقامی لوگ دوڑے۔ خون آلود نوجوان کو بچا کر ہسپتال لے گئے۔ لیکن تب تک سب ختم ہو چکا تھا۔
ایک ہی دن ایک خاندان نے دو افراد کھو دیے۔ شیر پور کا گھر اب بالکل سنسان۔ آنگن میں پڑوسی جمع ہیں۔ کسی کے منہ میں بول نہیں۔ ریل پولیس نے بتایا کہ احسن کیسے ٹرین سے گرے، اس کی جانچ کی جا رہی ہے۔ تاہم گاو¿ں والوں کا ایک ہی سوال، "کیا تقدیر اتنی بے رحم بھی ہوتی ہے؟ ایک ساتھ ماں اور بیٹے کی قبریں کھودیں! دونوں ایک ساتھ ہی ہمیشہ کی نیند میں سو گئے۔


