آئی آئی ایم کلکتہ کی سرپرستی میںایک اسٹارٹ اپ ،مخصوص اینٹی وینم تیار کرنے میں مصروف، سانپ کے کاٹنے کا زیادہ مو¿ثر علاج ممکن ہوگا

آئی آئی ایم کلکتہ کی سرپرستی میںایک اسٹارٹ اپ ،مخصوص اینٹی وینم تیار کرنے میں مصروف، سانپ کے کاٹنے کا زیادہ مو¿ثر علاج ممکن ہوگا

آئی آئی ایم کلکتہ کی سرپرستی میں پرورش پانے والا ایک اسٹارٹ اَپ علاقائی طور پر مخصوص سانپ کے زہر کے تریاق، یعنی اینٹی وینم، تیار کرنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے تاکہ اس کی تاثیر میں اضافہ کیا جا سکے۔
بھارت میں تقریباً تمام تجارتی اینٹی وینم تیار کرنے والی کمپنیاں تمل ناڈو کے دو اضلاع سے سانپوں کا زہر حاصل کرتی ہیں۔ تاہم ماہرین کے مطابق مختلف علاقوں میں سانپوں کی خوراک اور ماحول میں فرق کے باعث ان کے زہر کی نوعیت بھی مختلف ہوتی ہے۔ اس لیے صرف چنگل پٹو اور کانچی پورم سے حاصل کیے گئے سانپ کے زہر پر انحصار کرنے سے اینٹی وینم کی تاثیر میں بعض خامیاں پیدا ہوئی ہیں۔
مونوشا بایوٹیک کے شریک بانی 51 سالہ سوربھ رے نے کہا، ”یہی وہ جگہ ہے جہاں ہم اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔ ہمارا مقصد بنگال کے سانپوں سے حاصل کیے گئے زہر کی بنیاد پر بنگال کے لیے مخصوص اینٹی وینم فراہم کرنا ہے۔“
کمپنی کا نام سانپوں، تحفظ اور زرخیزی کی دیوی منوشا کے نام پر رکھا گیا ہے۔ یہ کمپنی جنوبی 24 پرگنہ کے باروئی پور میں واقع ایک لیبارٹری میں سانپوں سے زہر نکالتی ہے، جو کلکتہ کے مرکزی علاقے سے تقریباً 30 کلومیٹر دور ہے۔سانپ بنگال کے مختلف علاقوں سے لائے جاتے ہیں۔ اسٹارٹ اَپ ریاست کے محکمہ? جنگلات اور محکمہ? صحت کے ساتھ قریبی تعاون کرتا ہے۔یہ زہر ان دوا ساز کمپنیوں کو فراہم کیا جاتا ہے جو اینٹی وینم تیار کرتی ہیں۔ سوربھ رے کے مطابق، پہلی تجارتی کھیپ 2028 تک بازار میں دستیاب ہونے کی امید ہے۔
رے نے مارچ 2017 میں اپنی اہلیہ نیہا گاروڈیا کے ساتھ مل کر کمپنی قائم کی تھی۔ دونوں نے منافع بخش کارپوریٹ ملازمتیں چھوڑ کر کاروباری میدان میں قدم رکھا۔ ان کے اسٹارٹ اَپ کی رہنمائی آئی آئی ایم سی انوویشن پارک نے کی، جو آئی آئی ایم کلکتہ کا اسٹارٹ اَپس کے لیے انکیوبیشن مرکز ہے۔2018 میں بھارت کے ٹاپ 50 اسٹارٹ اَپس میں شامل ہونے کے بعد کمپنی کو آئی آئی ایم کلکتہ میں انکیوبیٹ کیا گیا۔ یہ مقابلہ آئی آئی ایم کلکتہ اور مرکزی حکومت کے محکمہ? سائنس و ٹیکنالوجی نے منعقد کیا تھا۔ مونوشا کو انوویشن پارک سے ابتدائی سرمایہ کاری اور رہنمائی بھی حاصل ہوئی ہے۔بچپن میں رے اپنا کافی وقت گاریا کے پنچاسایار میں واقع اپنے نانا کے فارم ہاو¿س میں گزارتے تھے۔ تقریباً چار دہائیاں قبل یہ علاقہ پرندوں، جانوروں اور سانپوں سے بھرا رہتا تھا۔
انہوں نے کہا، ”میں اساطیر میں بہت دلچسپی رکھتا تھا۔ دوسرے دیوی دیوتاو¿ں کے قدموں کے پاس ان کے واہن (مقدس جانور یا دیومالائی مخلوق جنہیں سواری کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے) ہوتے ہیں، جبکہ ایک سانپ شیو کے گلے میں لپٹا رہتا ہے۔ میں ان چیزوں کا مشاہدہ کرتا رہا اور سانپوں کے تئیں میری دلچسپی بڑھتی گئی۔“

Back to top button
Translate »